اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے ریاست نے دہشت گردی کے خلاف کثیر الجہتی حکمت عملی اپنائی ہے اور  دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

وزیراعظم کی زیرصدارت انسداد دہشت گردی و ریاستی رٹ کے قیام سے متعلق قائم اسٹیرنگ کمیٹی کا جائزہ اجلاس ہوا۔ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک اور  دیگر وزرا ءو حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔کمیٹی نے دہشت گردی کے خلاف وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین ہم آہنگی کو مؤثر بنانے اور اس ضمن میں کمیٹی کی سفارشات پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بہادر افواج کے کردار کو قابل تحسین قرار دیا۔

’’پرامن زندگی گزارنے کا موقع دیں‘‘۔۔۔ باجوڑ کے عوام کا دہشتگردوں کیخلاف احتجاج، انگریزی جریدے کی گمراہ کن رپورٹنگ پر شدید ردعمل

’’جیو نیوز ‘‘ کے مطابق وزیراعظم نے اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ دنیا دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کامیاب کاروائیوں کی معترف ہے۔  پاکستان کی بہادر افواج نے آپریشن ردُالفساد اور ضربِ عضب میں دہشت گردوں کا بھرپور مقابلہ کیا اور حالیہ تاریخ ساز معرکۂ حق میں دنیا نے پاکستان کی فتح کو تسلیم کیا۔فتنتہ الہندوستان، فتنتہ الخوارج اور  اس طرح کی دوسرے سماج دشمن عناصر کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت جامع، مؤثر  اور قابلِ عمل حکمت عملی پر کام کررہی ہے۔

وزیر اعظم نے واضح کیا کہ سمگلنگ کی روک تھام سے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ، دہشت گردی سے پاک اور  پُرامن مضبوط ریاستی ڈھانچہ ہی بین الاقوامی سطح پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کےخلاف زبان مزید سخت کر لی، بھارتی معیشت کو مردہ قرار دے دیا

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: کے خلاف گردی کے

پڑھیں:

گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف

مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف —فائل فوٹو

مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی، جس جی بی کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا۔

گلگت میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کے باہر اس کی سڑکوں کا حلیہ دیکھا تو افسوس ہوا، جو منصوبے ہم نے شروع کیے تھے وہ مکمل کیوں نہیں ہوئے؟ آخر وہ پیسہ کہاں لگایا گیا؟

نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو سڑک میں نے شروع کی اسے خنجراب تک پہنچنا چاہیے تھا، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللّٰہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کر سکتے۔

نواز شریف کی زیرصدارت پارلیمانی بورڈ اجلاس، جی بی الیکشن کے لیے امیدواروں پر مشاورت

اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔

انہوں نے کہا کہ آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کو کہوں گا کہ یہاں آئیں، ایئر پورٹ کو بڑا کر کے یہاں بوئنگ طیارے آنے چاہیے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں گا کہ ایئر پورٹ کو بڑا کریں گے، میں ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔

اس سے قبل نواز شریف بذریعہ طیارہ گلگت پہنچے تھے، وفاقی وزیر امیر مقام، سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔

وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللّٰہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمٰن، کاظم پیرزادہ نواز شریف کے ہمراہ گلگت پہنچے ہیں۔

ترجمان مسلم لیگ ن شمس میر کے مطابق نواز شریف گلگت بلتستان میں ن لیگ کے امیدواروں، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی عہدیداران سے ملاقاتیں اور خطاب کریں گے۔

واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر الیکشن 7 جون کو ہو گا۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ