ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کتنی کمی ہوئی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، زرمبادلہ کے ذخائز 15 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کمی سے 19 ارب 60 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ
اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک بار پھر کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد مجموعی ذخائر 19 ارب 60 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 25 جولائی 2025 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے ذخائر میں 15 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی کمی واقع ہوئی، جس کی وجہ بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں بتائی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے
اسٹیٹ بینک کے مطابق ہفتہ وار بنیاد پر کمی کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود ذخائر 14 ارب 30 کروڑ 39 لاکھ ڈالر تک محدود ہو گئے ہیں، جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس موجود خالص ذخائر 5 ارب 30 کروڑ 31 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے ہیں، ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 19 ارب 60 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسٹیٹ بینک پاکستان زرمبادلہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک پاکستان زرمبادلہ زرمبادلہ کے ذخائر لاکھ ڈالر کی کے ذخائر میں اسٹیٹ بینک بینک کے گئے ہیں
پڑھیں:
وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز ہونے کا خدشہ ہے جب کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے صرف 5 نئے ترقیاتی منصوبے سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام میں شامل ہیں۔
ذرائع نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے دوران تعلیم کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 77 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہے، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 41 ارب 19 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، یہ رواں مالی سال کے مقابلے میں صرف ایک ارب 71 کروڑ روپے زیادہ ہیں۔
ذرائع نے کہنا تھا کہ دوسری جانب وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے 36 ارب روپے ملنے کی تجویز دی گئی ہے، وفاقی وزارتِ تعلیم کے تحت آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، چترال اور سندھ میں دانش اسکولوں کے لیے آئندہ مالی سال میں 4 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 3 ارب 29 کروڑ روپے جبکہ پاکستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کے لیے 3 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 2 ارب 61 کروڑ روپے بھی سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہوں گے۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن کے 3 نئے منصوبوں کے لیے صرف 30 کروڑ روپے بطور ٹوکن رقم مختص کرنے کی تجویز ہے،41 ارب روپے سے زائد رقم کمیشن کے 135 جاری منصوبوں پر خرچ کی جائے گی، وفاقی وزارتِ تعلیم کے 2 نئے منصوبوں میں ڈیجیٹل لرننگ اور رول آؤٹ آف میٹرک ٹیک منصوبے بھی شامل ہیں، ان منصوبوں کے لیے 60، 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع نے کہا کہ وزارتِ تعلیم اپنے 31 جاری ترقیاتی منصوبوں پر 34 ارب 80 کروڑ روپے خرچ کرے گی، مجموعی طور پر تعلیم کے شعبے میں نئے منصوبوں کے مقابلے میں جاری منصوبوں کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔