پاک-امریکا تجارتی ڈیل، ’تیل پاکستان سے نکلا اور بتا ہمیں ڈونلڈ ٹرمپ رہے ہیں‘
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
پاکستان اور امریکہ کے درمیان اہم تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ توانائی کے شعبے میں ایک بڑے تجارتی معاہدے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک پاکستان کے تیل کے وسیع ذخائر کی ترقی کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ہم اس وقت اس آئل کمپنی کے انتخاب کے مرحلے میں ہیں جو اس شراکت داری کی قیادت کرے گی۔ کون جانے، شاید ایک دن وہ بھارت کو بھی تیل بیچنا شروع کر دیں۔
سوشل میڈیا صارفین پاکستان میں تیل کے ذخائر تلاش کرنے پر مختلف تبصرے کرتے ںظر آ رہے ہیں۔ کئی صارفین نے میمز کا سہارا لیا تو چند صارفین پوچھتے نظر آئے کہ آخر یہ ذخائر کدھر ہیں۔
ایک صارف کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کو تیل کے ذخائر ملیں یا نہ ملیں لیکن پاکستانیوں کو ٹرولنگ کے لیے مواد مل گیا ہے۔
یاررررر ٹرمپ کو تیل کے ذخائر ملے یا نہ ملے لیکن پاکستانیوں کو ٹرولنگ کے لئے مواد مل گیا ???? pic.
— Faisal Khan (@KaliwalYam) July 30, 2025
ریاض الحق نے کہا کہ پاکستانی عوام کو ٹرمپ سے پتہ چلا کے ہمارے پاس تیل کے بے تحاشہ ذخائر ہیں۔ اب حکومت بھی بتا دے کہ کہاں ہیں۔ خیبرپختونخواہ یا بلوچستان؟
پاکستانی عوام کو ٹرمپ سے پتہ چلا کے ہمارے پاس تیل کے بے تحاشہ ذخائر ہیں۔ اب حکومت بھی بتا دے کہ کہاں ہیں۔ خیبرپختونخواہ یا بلوچستان؟ pic.twitter.com/dkBgfx20Wm
— Riaz ul Haq (@Riazhaq) July 31, 2025
صحافی غریدہ فاروقی نے طنزاً لکھا کہ اب سمجھ آیا کہ یکم اگست سے پٹرول کیوں سستا ہونے جا رہا ہے ہمارا تو اپنا تیل نکل آیا ہے اور یہ ٹرمپ نے بتایا ہے۔
اب سمجھ آیا کہ یکُم اگست سے پٹرول کیوں سستا ہونے جا رہا ۔۔۔ ھمارا تو اپنا تیل نکل آیا ???????????? ٹرمپ نے بتایا ۔۔۔
— Gharidah Farooqi (T.I.) (@GFarooqi) July 30, 2025
ایک ایکس صارف نے کہا کہ ٹرمپ کو وہ تیل بیچ دیا جو پاکستان اپنے لیے دنیا سے خریدتا ہے۔
نا خریدو ویچی جاؤ نے ٹرمپ کو وہ تیل بیچ دیا جو پاکستان اپنے لیے دنیا سے خریدتا ہے۔
pic.twitter.com/nAMyUKEFju
— Enkidu Reborn (@enkidureborn) July 30, 2025
ثانیہ نامی صارف نے کہا کہ تیل پاکستان سے نکلا ہے اور بتا ڈونلڈ ٹرمپ رہا ہے حکومت کو اس بارے میں پتا ہی نہیں ہے۔
تیل پاکستان سے نکلا ہے بتا ٹرمپ رہا ہے۔ حکومت کو پتا نہیں۔ یہ بات ہضم نہیں ہو رہی ۔۔۔ ????????
— Sania (@Sania_098) July 31, 2025
شیخ عثمان نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ پاکستانیوں سے زیادہ امریکیوں کو کیسے پتہ ہے کہ پاکستان کے پاس اتنے تیل کے ذخائر ہیں اور اتنا بڑا یہ دعوی بھی کر رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ پاکستانیوں سے زیادہ امریکیوں کو کیسے پتہ ہے کہ پاکستان کے پاس اتنا تیل کے ذخائر ہیں اور اتنا بڑا یہ دعوی بھی کر رہے ہیں pic.twitter.com/q9CZHPdHBC
— شیخ عثمان غنی (@usmanpfc8882) July 31, 2025
عمر ملک نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ تیل ختم ہونے کے بعد بائیک کو لیٹا لیٹا کر 2 کلومیٹر تک لے جانے والوں کے پاس تیل کے ذخائر نکل آئیں میں اس بات کو نہیں مانتا۔
تیل ختم ہونے کے بعد بائیک کو لیٹا لیٹا کر 2 کلومیٹر تک لے جانے والوں کے پاس تیل کے ذخائر۔۔۔۔
میں نہیں مانتا
— Omar Malik (@Mr_OmarMalik) July 31, 2025
سعد ملک نے کہا کہ اگر تیل کے ذخائر نکل بھی آئے تو پاکستانیوں کو خوش ہونے کی ضرورت نہیں۔ عوام کو کون سا کوئی فائدہ ہونا ہے۔ ان پر ہمارا حق نہیں ہے۔
اگر تیل کے ذخائر نکل بھی آئے تو پاکستانیوں کو خوش ہونے کی ضرورت نہیں۔
عوام کو کون سا کوئی فائدہ ہونا ہے۔۔ان پر ہمارا حق نہیں ہے???? https://t.co/kFIyvpi6y4
— Saad Malik (@Saadii_Pti) July 31, 2025
احتشام کیانی نےسوال کیا کہ یہ پاکستان میں اچانک سے تیل کے اتنے ذخائر کہاں سے نکل آئے کہ ہم دوسرے ممالک کو سپلائی بھی کر سکیں گے؟
یہ پاکستان میں اچانک سے تیل کے اتنے ذخائر کہاں سے نکل آئے کہ ہم دوسرے ممالک کو سپلائی بھی کر سکیں گے؟
— Ehtsham Kiani (@ehtshamkiani) July 31, 2025
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان میں تیل تیل کا معاہدہ تیل کے ذخائر ڈونلڈ ٹرمپ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان میں تیل تیل کا معاہدہ تیل کے ذخائر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستانیوں کو ہے کہ پاکستان تیل کے ذخائر پاکستان میں پاکستان کے ڈونلڈ ٹرمپ پاس تیل کے ذخائر ہیں نے کہا کہ عوام کو رہے ہیں ٹرمپ کو کے پاس سے پتہ سے نکل بھی کر
پڑھیں:
ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔
اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔
لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔
گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔
مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔
لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیانتازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔
پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیںگزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔
اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقاتپاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
یورپی یونین کی غیر معمولی تائیدیکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔
اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔
اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔
’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکزموجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔
امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین