مجھے نہیں پتہ کس کو کتنا نقصان ہوا، یہ صرف اسلام آباد کے ڈرائنگ رومزکی گفتگو تھی، مفتاح اسماعیل کی وضاحت
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اسحاق ڈار کے بیٹے علی ڈار کو کرپٹو پراجیکٹس میں ہونے والے نقصان سے متعلق خبروں پر لا علمی کا اظہار کردیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے کبھی بھی کسی کا نام نہیں لیا، ساری دنیا کا گناہ میرے سر پر نہ ڈالیں، اس موضوع پر میں نے بھی وہ ہی باتیں سنی ہیں جو باقی سب نے سنی ہیں۔
صحافی سید خالد مصطفیٰ اور سہیل اقبال بھٹی کے ساتھ پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے بتا یا کہ ہم پروگرام کی بریک میں چائے پیتے ہوئے بات کر رہے تھے ، ہمارے ساتھ سسٹم لمیٹڈ کے ہیڈ آصف پیر بھی بیٹھے تھے ، وہ کرپٹو کو جانتے ہیں مجھے تو کرپٹو کا پتہ بھی نہیں ہے۔ اس دوران میزبان ندیم ملک نے مجھ سے سوال کیا کہ ہم نے سنا ہے کہ کسی ایک بڑے خاندان کے شخص نے 100ملین تک کا نقصان کیا ہے ، میں نے جواب دیا کہ میں نے بھی سنا ہے ، اس سے زیادہ میں نے کچھ نہیں بولا، میرا جرم صرف اتنا ہی ہے۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پیسے کا نقصان کرنا جرم نہیں ہوتا ، نہ پیسہ کمانا جرم ہے، مجھے نہیں پتہ کس نے کتنا نقصان کیا ہے،ہو سکتا ہے جتنا بتا یا جا رہا ہے اتنا ہی نقصان ہو یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس سے کم نقصان ہو ، مجھے کچھ بھی نہیں پتہ ، یہ بس اسلام آباد کے ڈرائینگ رومز میں ہونے والی ایک بات تھی ۔
واضح رہے کہ علی ڈار کو کرپٹو پراجیکٹس میں ہونے والے نقصان سے متعلق سب سے پہلے سماء نیوز پر میزبان ندیم ملک کے پروگرام میں تذکرہ ہوا تھا ، ندیم ملک نے سوال کیا تھا کہ کسی بڑے خاندان کے شخص کو کرپٹو میں100ڈالر کا نقصان ہوا ہے اس پر مفتاح اسماعیل نے جواب دیا تھا کہ میں نے بھی اس بارے میں سنا ہے ،اس کے بعد دنیا نیوز کے پروگرام میں تجزیہ کار عثمان شامی نے علی ڈار کا نام لیتے ہوئے اس خبر سے متعلق تمام تر تفصیل بتائی تھی ۔ انہوں نے بتا یا تھا کہ علی ڈار نے متحدہ عرب امارات میں ایک کرپٹو پراجیکٹ لانچ کیا تھا جس میں وہاں کے انویسٹرز نے انویسٹمنٹ کی تھی لیکن وہ پراجیکٹ ڈمپ کر گیا تھا جس کے نقصان کے ازالے کے لیے ایک دوسرا کرپٹو پراجیکٹ لانچ کیا گیا تھا لیکن وہ بھی نہ چل سکا تھا ۔
بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کی کوئی ویزا درخواست زیر غور نہیں ،وزارت داخلہ
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: مفتاح اسماعیل نقصان ہو علی ڈار تھا کہ
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔