ٹرمپ کا معاشی ترقی دعویٰ حقیقت سے دور؟ ماہرین نے اعداد و شمار پر سوال اٹھا دیے
اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملکی معیشت میں غیر معمولی بہتری کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوسری سہ ماہی میں امریکہ کی معاشی ترقی نے تمام توقعات کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
تاہم جاری کیے گئے اعداد و شمار اور معاشی تجزیہ کار ان دعووں سے متفق نظر نہیں آتے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی، بھارت نے روس سے تیل کی خریداری روک دی
صدر ٹرمپ کے مطابق دوسری سہ ماہی میں ملکی جی ڈی پی (GDP) میں 3 فیصد اضافہ ہوا، جسے انہوں نے اپنی معاشی پالیسی کی فتح قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ شرح نمو ان تمام ناقدین کے لیے جواب ہے جو ٹرمپ دور کی پالیسیوں کو ناکام قرار دیتے رہے ہیں۔
تاہم معاشی ماہرین کا مؤقف اس سے مختلف ہے۔ ان کے مطابق جی ڈی پی میں اضافے کی بنیادی وجہ درآمدات میں کمی اور تکنیکی ایڈجسٹمنٹ ہے، نہ کہ مقامی پیداوار یا صارفین کے اخراجات میں حقیقی اضافہ۔
اس شرح نمو کو معیشت کی مجموعی بہتری کا اشارہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:’ہاں، بھارتی معیشت مردہ ہے‘، راہول گاندھی نے امریکی صدر ٹرمپ کے بیان کی حمایت کردی
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے فیڈرل ریزرو سے شرح سود میں کمی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشی حالات شرح سود میں کمی کے متقاضی ہیں تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو مزید تقویت دی جا سکے۔
حالیہ دنوں میں روزگار سے متعلق جاری کردہ اعداد و شمار پر بھی تنازع کھڑا ہو چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے لیبر ڈیپارٹمنٹ کے اعداد و شمار پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے لیبر اسٹیٹسٹکس بیورو کی سربراہ کو برطرف کر دیا، جس پر شفافیت کے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اعداد و شمار کو سیاسی بیانات کی بھینٹ چڑھایا گیا تو اس سے نہ صرف اندرون ملک سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہو گا بلکہ عالمی سطح پر بھی امریکی معیشت کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی معیشت ڈونلڈ ٹرمپ روزگار معاشی نمو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا امریکی معیشت ڈونلڈ ٹرمپ روزگار
پڑھیں:
کسان کارڈ سے کاشتکار سر اٹھا کر جیئے گا: مریم نواز
---فائل فوٹووزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ کسان کارڈ کے ذریعے پنجاب کے کاشتکار کی قسمت بدل رہی ہے اور پنجاب کا کاشتکار اب کسی آڑھتی کا مقروض نہیں ہو گا بلکہ سر اٹھا کر جیئے گا۔
مریم نواز نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پنجاب کے کاشتکار کو مالی خودمختاری اور خوشحالی کی راہ پر دیکھنا میرا خواب ہے۔
مریم نواز کے مطابق صوبے بھر میں پہلی بار 832,000 سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری کیے گئے ہیں، یہ کاشتکار مجموعی طور پر 2 ارب 54 کروڑ روپے کے قرضے استعمال کر چکے ہیں جبکہ گندم کے موسم میں کاشتکاروں نے 100 ارب روپے سے زائد مالیت کی زرعی مداخل خریدیں۔
گلیوں اور بازاروں میں آلائشیں اور باقیات پھینکنے پر 50 ہزار تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
وزیرِاعلیٰ نے بتایا کہ 538,000 کاشتکاروں سے 67 ارب روپے قابلِ وصول ہیں اور 86 فیصد ریکوری کا ریکارڈ قائم ہوا ہے، کاشتکاروں نے بہترین مثال قائم کرتے ہوئے 57 ارب روپے کی اقساط بروقت ادا کر دی ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے مزید کہا ہے کہ کسان کارڈ کے ذریعے خریف کی فصل کے لیے 90 ارب روپے کی زرعی مداخل کاشتکاروں کو فراہم کی جا چکی ہیں جبکہ 300,000 کاشتکار 30 ارب روپے کی زرعی مداخل کسان کارڈ کے ذریعے حاصل کر چکے ہیں۔
مریم نواز نے یہ بھی کہا ہے کہ کاشتکار بھائیوں نے زرعی قرضوں کی بروقت ادائیگی کر کے شاندار مثال قائم کی ہے۔