Express News:
2026-07-24@09:32:26 GMT

شرح نمو کا ہدف اور عالمی شرح نمو

اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT

2024-25 کے مالیاتی سال کا سورج غروب ہوئے، ایک ماہ کا عرصہ گزر گیا۔ اسلام آباد میں نئے مالی سال کی صبحیں اس وقت زیادہ خوشگوار محسوس ہوتی ہیں جب وزرا عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ اس بار ترقی کی شرح 4.2 فی صد رہے گی۔ شاید یہ سنتے سنتے آئی ایم ایف کے اہلکاروں کے کان پک گئے ہوں گے۔

ان کی بے رحم نگاہیں دیکھ رہی تھیں کہ صرف 32 ارب ڈالرز کی برآمدات اور 26 ارب ڈالر سے زائد کے خسارے پر کھڑی معیشت، کپاس کی فصل میں دنیا میں نام تھا اور اب ایک ارب ڈالر سے زائد کی کپاس بھی درآمد کر لی۔ گنا پیدا کرنے والا دنیا کا پانچواں بڑا ملک پہلے کبھی تھا اب نہیں، اب ساتویں نمبر پر آچکا ہے۔ اب تو چینی کی درآمد کی نوبت آنے والی ہے۔

سیلاب آئے تو لاکھوں کیوسک پانی ضایع کر دے کچھ محفوظ نہ کر پائے۔ ایک دوسرے کی جانب دیکھا، چلیے دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے؟انھی میں شاید بھی ہو سکتا ہے (فرضی کہانی ہے)۔ ایک پاکستان مخالف عالمی معاشی مخبر بھی اپنی پیش گوئی پیش کر رہا تھا۔ اس نے کہا ساتھیو! تمہیں معلوم ہے تو ہے 2025 کی عالمی شرح نمو 3 فی صد اور 2026 کے لیے ہماری پیش گوئی ہے کہ 3.

1 فی صد ہوگئی۔

اس پر سب اس بات پر متفق ہو گئے کہ 4.2 فی صد پاکستان کا تخمینہ ہے تو کیا پاکستان عالمی معاشی اثرات سے بچ پائے گا۔ اگرچہ یہ فرق محض 0.6فی صد کا ہے اس کے لیے ہمیں 4.2 فی صد سے بھی زیادہ کے لیے دن رات کام کرنا پڑے گا۔

عالمی سرمایہ کار سونے کی معیشت کی طرف جا رہے ہیں اور کچھ عالمی سرمایہ کار پاکستان کی جانب کھنچے چلے آتے ہیں، زرعی شعبے میں انقلاب برپا کرنا ہوگا، گنا کم پیدا ہوا، چینی کی کم پیداوار کو لے کر مافیا نے حکومت کو تگنی کا ناچ نچا دیا ہے۔ کل تک چینی 210 روپے فی کلو فروخت ہو رہی تھی، کہاں 160 روپے فی کلو کافی عرصے تک رہی۔ اب 50 روپے فی کلو کے حساب سے کس کی جیب میں پیسہ جا رہا ہے۔ اربوں روپے مافیاز کی جیب میں، مزید کی تیاری ہے۔

حکومت فوری ایکشن لے تاکہ چینی کی قیمت کم ہو سکے۔شرح نمو 4.2 فی صد سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے جب کسان کی اس پریشانی کو ختم کیا جاسکتا ہو جو سوچتا ہے کہ اگر فصل کی قیمت بڑھتی ہے تو بدلے میں بجلی اور کھاد، ادویات بھی مہنگی ہو جاتی ہیں، اگر پانی بھی خوب میسر ہو اور فصل کی قیمت اچھی ملے، اخراجات کم ہو جائیں، پھر تو زرعی ترقی ہوئی۔ آئی ٹی کی برآمدات 10 ارب ڈالر سے زائد لے کر چلے جائیں۔

صنعتوں کی رفتار تیز ہو جائے اور بند صنعتیں کھلنے لگ جائیں۔ درآمدات کا بدل کی تیاری تیز سے تیز تر ہو جائے۔ تجارتی خسارہ 26 ارب ڈالر سے نکل کر اس کا نصف ہو جائے، برآمدات دگنی اور درآمدات نصف پھر کہیں جا کر 4.2 فی صد کی شرح حاصل ہوگی اور اس میں مزید اضافہ جب ہوگا جب شعبہ زراعت کو ٹیکنالوجی دیں، طلبا کو ٹیکنیکل تعلیم دیں، باہر جانے والے خواہش مند نوجوانوں کو پیشہ ورانہ تربیت دی جائے، ہر ایک کے لیے صحت کی سہولت مفت ہو اور بہت سی باتیں ہیں۔

معیشت کی اصلاح کی باتیں بہت کی جاتی ہیں لیکن عملی اقدامات کا جب حکومت ارادہ کرتی ہے تو کہیں مافیاز رکاوٹ اور بہت کچھ رکاوٹیں لیکن اس کے ساتھ ہی عالمی معیشت کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہوگا جس کے بارے میں آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ عالمی جی ڈی پی نمو 2025 کی 3 فی صد تھی اور 2006 کی 3.1 فی صد متوقع ہے۔ ایم ایف نے ہمارا3.6 فی صد کا ہدف رکھا ہے۔ ہو سکتا ہے جلد اس پر نظرثانی کرکے عالمی معیار پر لے کر آ جائے۔

گندم اور کپاس کی فصل بہتر ہونے کے امکانات ہیں لیکن پانی کی قلت کے خطرے سے کس طرح نمٹا جائے اس پر غورکرنا ہوگا۔ پیکنگ کی شرح نمو میں مزید اضافہ ہوگا لیکن اس سے عوام کے لیے کون سے روزگار کے مواقع بڑھ جائیں گے۔ ٹیلی کام اور آئی ٹی میں بہتری آ سکتی ہے تو نوجوانوں کو ہر ممکنہ سہولت دیں، ان کی حوصلہ افزائی کریں، قانونی تحفظ دیں، صنعتی ترقی کی رفتار کو تیز تر کریں، کاٹیج انڈسٹری کو فروغ دیا جائے اور ان کو بلاسود قرضے دیے جائیں۔

مہنگائی کو کنٹرول کرنا ہوگا، غریب عوام کے پاس محدود رقم ہوتی ہے اگر کچھ اشیا کی خریداری پر ساری رقم صرف ہو جائے تو معیشت میں مجموعی طور پر طلب میں کمی آ جاتی ہے۔ اشیا بن بکے پڑی رہتی ہیں ، کارخانوں کو تالے لگ جاتے ہیں، معیشت پر کساد بازاری چھا جاتی ہے۔ روزگارکے مواقع کم ہو جاتے ہیں، لہٰذا حکومت چینی کے نرخ پرانی قیمت پر واپس لے کر آئے، دیگر اشیا کی قیمت میں کمی لے کر آئے، ورنہ یہی کساد بازاری کاروباری مندی، معیشت کی سست روی ہمیں عالمی شرح نمو کی سطح پر لے آئے گی۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ارب ڈالر سے کے لیے

پڑھیں:

بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘

امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔

اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔

pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ

— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026

ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل