’مجھے ان فالو کر دیں‘، اداکارہ اسما عباس نے ایسا کیوں کہا؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
سینیئر اداکارہ اسماء عباس جنہیں پاکستانی ڈراموں میں شاندار کارکردگی کی وجہ سے سراہا جاتا ہے انہوں نے ناقدین کو کہا ہے کہ اگر کسی کو ان سے مسئلہ ہے تو وہ ان کا یوٹیوب چینل ان سبسکرائب کر دیں۔
حال ہی میں اسما عباس نے اپنی گھریلو مددگار کے حق میں آواز بلند کی جس پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے اپنے حالیہ ولاگ میں اپنے ناظرین کو کھری کھری سناتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کو اُن کی ہاؤس ہیلپ سے مسئلہ ہے تو وہ چینل کو ان سبسکرائب کر دے۔
اپنے وی لاگ میں اسما عباس نے کہا میں اپنی ویڈیو پر کچھ تبصرے پڑھ رہی تھی اور چندا کے بارے میں نفرت انگیز کمنٹس دیکھ کر حیران رہ گئی۔ یہ تبصرے واقعی تکلیف دہ تھے۔ مجھے اپنے بارے میں نفرت آمیز باتیں پڑھنے کی عادت ہو چکی ہے۔ کوئی کہتا ہے، ’بے شرم بڑھیا‘، کوئی کہتا ہے، ’اس عمر میں ایسے بے حیاء کپڑے پہنتی ہو‘، یا پھر ’مرنے والی ہو، ذرا اپنے اعمال دیکھو‘۔ لیکن اس بار مجھے واقعی دکھ ہوا کیونکہ یہ تبصرے میری ہاؤس ہیلپ کے بارے میں تھے۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ لوگوں نے لکھا، ’ہمیں چندا میں کوئی دلچسپی نہیں‘، ’ہمیں تمہاری ملازمہ کی کہانیاں کیوں سننی پڑتی ہیں؟‘ یا پھر ’ہمیں اُس کی زندگی سے کوئی غرض نہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ میں ایک بات واضح کر دوں کہ میں اپنی زندگی میں ’ملازمہ‘ کا لفظ استعمال ہی نہیں کرتی، یہ لفظ میری لغت میں ہے ہی نہیں۔ وہ میری ہاؤس ہیلپ ہیں اور میرے لیے بے حد اہم ہیں۔ اُن کے بغیر میں زندہ نہیں رہ سکتی۔ وہ دن رات میرا ساتھ دیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: محبت عمر اور وقت کے ساتھ بدلتی ہے، اسما عباس
انہوں نے مزید کہا میں اُن کی وفاداری، محبت، عزت اور محنت کا کبھی بدلہ نہیں دے سکتی۔ وہ میرے ساتھ بہت وفادار ہیں، اور میں حقیقت میں اُن کے بغیر رہ ہی نہیں سکتی۔ تو اگر کسی کو میری ہاؤس ہیلپ کی وجہ سے میرے وی لاگ پسند نہیں آتے تو وہ بلا جھجک میری چینل کو ان سبسکرائب، اَن فالو یا بلاک کر دے۔ اگر آپ اپنے ملازمین سے عزت اور برابری کا سلوک نہیں کر سکتے تو آپ کی ساری عبادات کس کام کی ہیں؟ میرا دل ٹوٹ گیا۔ یہ لوگ میرے بچوں کی طرح ہیں۔
واضح رہے کہ اسما عباس ایک شاندار پاکستانی اداکارہ ہیں جو مقبول ڈراموں میں اپنی شاندار اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں، ان کے قابل ذکر ڈرامے دمپخت، اکبری اصغری، خمار، دلدل، رانجھا رانجھا کردی، چپکے چپکے، چوہدری اینڈ سنز، جی ٹی روڈ، ردّ، من جوگی، بےبی باجی کی بہویں اور دستک اور دیگر ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسما عباس پاکستانی اداکارہ پاکستانی ڈرامے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستانی اداکارہ پاکستانی ڈرامے انہوں نے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔