کولڈ پلے اسکینڈل، ٹیک کمپنی ایسٹرونومر کے سی ای او کے بعد ایچ آر ہیڈ نے بھی استعفیٰ دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایسٹرونومر کی چیف پیپل آفیسر کرسٹن کیبوٹ نے، جنہیں کمپنی کے سابق سی ای او اینڈی بائرن کے ساتھ کولڈ پلے کنسرٹ کی ’کس کیم‘ پر بغلگیر ہوتے دیکھا گیا تھا، مبینہ طور پر استعفیٰ دے دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایسٹرونومر نے تصدیق کی کہ ہیومن ریسورسز کی سربراہ کرسٹن کیبوٹ اب کمپنی کا حصہ نہیں رہیں اور انہوں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔
کرسٹن کیبوٹ کا استعفیٰ، اینڈی بائرن کے استعفیٰ کے بعد سامنے آیا ہے، جنہوں نے گزشتہ ہفتے اس وقت استعفیٰ دیا جب کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ انہیں رخصت پر بھیجا جائے گا اور ان کے خلاف تحقیقات کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:
اس دوران، کمپنی کے شریک بانی اور چیف پروڈکٹ آفیسر پیٹ ڈی جوی نے عبوری سی ای او کے طور پر عہدہ سنبھال لیا ہے، ابھی تک نہ تو ایسٹرونومر اور نہ ہی کرسٹن کیبوٹ نے باضابطہ طور پر علیحدگی کا اعلان کیا ہے۔
کرسٹن کیبوٹ اور اینڈی بائرن کو 16 جولائی کو میساچوسٹس کے شہر بوسٹن کے قریب کولڈ پلے ایک کنسرٹ میں ’کس کیم‘ پر ایک دوسرے کے ساتھ جھومتے اور گلے ملتے ہوئے دکھایا گیا۔ جیسے ہی کیمرہ ان پر فوکس ہوا، وہ دونوں اسکرین پر بغلگیر اور موسیقی پر جھومتے دکھائی دیے، لیکن فوراً جھک کر کیمرہ سے چھپنے کی کوشش کی۔
اس پر کولڈ پلے کے مرکزی گلوکار کرس مارٹن نے مزاحاً کہا کہ یا تو ان کے درمیان کوئی تعلق ہے، یا وہ بہت شرمیلے ہیں، یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور انٹرنیٹ صارفین نے دونوں کو شناخت کرلیا۔
مزید پڑھیں:
کرسٹن کیبوٹ اور اینڈی بائرن کے مبینہ تعلق کی رپورٹ کے بعد کمپنی نے ایک اندرونی تحقیقات کا اعلان کیا، تاہم ویڈیو کا ذکر نہیں کیا گیا، کمپنی نے کہا کہ سی ای او کو تحقیقات مکمل ہونے تک رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔
چند روز بعد 20 جولائی کو کمپنی نے اعلان کیا کہ اینڈی بائرن نے استعفیٰ دے دیا ہے، کمپنی کے بیان کے مطابق اینڈی بائرن نے اپنا استعفیٰ پیش کیا ہے، جسے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے قبول کر لیا ہے۔
’بورڈ ہمارے اگلے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تلاش شروع کرے گا، جبکہ شریک بانی اور چیف پراڈکٹ آفیسر پیٹ ڈی جوی عبوری سی ای او کے طور پر خدمات انجام دیتے رہیں گے۔‘
مزید پڑھیں:
ڈیٹا اینالیٹکس اور مصنوعی ذہانت سے وابستہ کمپنی ایسٹرونومر نے تسلیم کیا کہ اس واقعے کی وجہ سے ایک ہی رات میں ان کی کمپنی کی پہچان بدل گئی، لیکن اس کا ان کے کام یا صارفین پر کوئی اثر نہیں پڑا۔
’ہم وہی کام کر رہے ہیں جس میں ہم بہترین ہیں یعنی اپنے صارفین کو ان کے اے آئی سے متعلق مسائل کے حل میں مدد فراہم کرنا۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایسٹرونومر اینڈی بائرن اے آئی بوسٹن ٹیکنالوجی کمپنی ڈیٹا اینالیٹکس کرسٹن کیبوٹ کس کیم کولڈ پلے مصنوعی ذہانت میساچوسٹس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایسٹرونومر اینڈی بائرن اے آئی ٹیکنالوجی کمپنی کرسٹن کیبوٹ کس کیم کولڈ پلے مصنوعی ذہانت میساچوسٹس کرسٹن کیبوٹ اینڈی بائرن اعلان کیا سی ای او دے دیا
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔