پاکستان نے ڈپلومیٹک کارڈ بہتر انداز میں کھیلا، ملیحہ لودھی
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
میڈیا سے بات کرتے ہوئے ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان کے امریکا کے ساتھ تعلقات درست سمت میں ہیں اور پالیسی بھی درست ہے، مجموعی طور پر پاکستان نے بہت بہتر اقدامات کیے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان کی امریکا میں سابق سفیر ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ڈپلومیٹک کارڈ بہتر انداز میں کھیلا۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان کے امریکا کے ساتھ تعلقات درست سمت میں ہیں اور پالیسی بھی درست ہے، مجموعی طور پر پاکستان نے بہت بہتر اقدامات کیے ہیں۔ ملیحہ لودھی نے کہا کہ امریکا چاہتا ہے کہ بھارت امریکا سے اسلحہ خریدے، ٹرمپ کی نظر میں بھارت کی وہ اہمیت نہیں جو امریکا کے سابقہ صدور کی نظر میں تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی ڈیل کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں، یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ امریکا کے ساتھ کامیاب مذاکرات ہوئے ہیں۔سابق سفیر کا کہنا تھا کہ جب تک تجارتی ڈیل کی تفصیلات سامنے نہیں آ جاتیں تجزیہ کرنا قبل از وقت ہو گا۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ملیحہ لودھی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی ڈیل ہونا خوش آئند بات ہے، لگتا ہے کہ صدر ٹرمپ بھارت کے ساتھ غیر مشروط وفاداری چاہتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ملیحہ لودھی پاکستان نے امریکا کے کے ساتھ
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔