جنوبی کوریا کی معروف کمپنی ایل جی انرجی سلوشن (LGES) نے امریکی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا کے ساتھ 4.3 ارب ڈالر مالیت کا بڑا معاہدہ طے کیا ہے، جس کے تحت وہ انرجی اسٹوریج سسٹمز کے لیے بیٹریاں فراہم کرے گی۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق یہ معاہدہ امریکا کی جانب سے چینی درآمدات پر انحصار کم کرنے کی کوششوں کے تحت کیا گیا ہے۔ معاہدے کے تحت لیتھیم آئرن فاسفیٹ (LFP) بیٹریاں ایل جی ای ایس کی مشی گن میں واقع فیکٹری سے فراہم کی جائیں گی۔

کمپنی نے بدھ کے روز عالمی سطح پر ایل ایف پی بیٹریوں کی 3 سالہ فراہمی کے معاہدے کا اعلان کیا، تاہم معاہدہ کے تحت بیٹریوں کے استعمال کی نوعیت (گاڑیوں یا توانائی ذخیرہ کرنے والے نظام) کی وضاحت نہیں کی گئی۔

مزید پڑھیں: ٹیسلا نے ٹیکساس میں بغیر انسانی ڈرائیور والی ٹیکسی سروس لانچ کردی

ایل جی ای ایس نے رائٹرز کو بتایا کہ معاہدے کی رازداری کے باعث صارف کا نام ظاہر نہیں کیا جا سکتا، تاہم ذرائع نے اشارہ دیا ہے کہ یہ معاہدہ ٹیسلا کے ساتھ ہی ہوا ہے۔ دوسری جانب، ٹیسلا کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

یاد رہے کہ ٹیسلا کے چیف فنانشل آفیسر وایبھو تنیجا نے اپریل میں اعتراف کیا تھا کہ چین سے درآمد کی جانے والی بیٹریوں پر امریکی ٹیرف نے کمپنی کے توانائی کے شعبے کو شدید متاثر کیا ہے، اور کمپنی چین کے علاوہ دوسرے ذرائع سے سپلائی چین مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

ایل جی ای ایس کے مطابق یہ معاہدہ اگست 2027 سے جولائی 2030 تک مؤثر رہے گا، تاہم مدت کو 7 سال تک بڑھایا جا سکتا ہے اور بیٹریوں کی سپلائی میں اضافہ بھی ممکن ہے، جو صارف کے ساتھ آئندہ بات چیت پر منحصر ہوگا۔

مزید پڑھیں: ’دنیا کو ٹیسلا اور ٹرمپ ایک ہی گروپ چیٹ میں چاہییں‘،بلال بن ثاقب کی ایلون مسک کے والد سے ملاقات

سام سنگ سیکیورٹیز کے سینئر تجزیہ کار چو ہیون ریول نے کہا کہ چونکہ جنوبی کوریا کی دیگر کمپنیاں جیسے سام سنگ ایس ڈی آئی اور ایس کے آن ابھی تک امریکی ایل ایف پی مارکیٹ میں داخل نہیں ہو سکیں، اس لیے ایل جی ای ایس کو سبقت حاصل ہو گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹیسلا نے حال ہی میں سام سنگ الیکٹرانکس کی ٹیکساس فیکٹری سے سیمی کنڈکٹر چپس کی فراہمی کے لیے 16.

5 ارب ڈالر کا الگ معاہدہ بھی کیا ہے، جو کمپنی کی امریکی سپلائی چین پر انحصار بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

LFP LGES Tesla ایلون مسک ٹیسلا

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایلون مسک ٹیسلا ایل جی ای ایس ٹیسلا کے کے تحت

پڑھیں:

ٹرمپ کے بدلتے پینترے

امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔

دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

 ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا