یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس میں حکومت (ریجیم) کی تبدیلی ضروری ہے تاکہ یوکرین اور اس کے ہمسایہ ممالک کو مبینہ روسی جارحیت سے بچایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ نے روس کو یوکرین جنگ ختم کرنے کے لیے 10 سے 12 دن کی مہلت دی

انہوں نے فن لینڈ میں ہیلسنکی+50 کانفرنس میں ورچوئل خطاب کے دوران کہا کہ دنیا روس کو جنگ روکنے پر مجبور کر سکتی ہے، لیکن اگر روس میں حکومت نہ بدلی گئی تو وہ جنگ کے بعد بھی ہمسایہ ممالک کو غیر مستحکم کرتا رہے گا۔

زیلنسکی نے مغربی ممالک سے مطالبہ کیا کہ روسی اثاثے صرف منجمد کرنے کے بجائے مکمل طور پر ضبط کیے جائیں اور ان اثاثوں کو یوکرین کے دفاع کے لیے استعمال کیا جائے۔

روس کا ردعمل

روسی حکومت نے زیلنسکی کے ان دعووں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ یورپی یونین روس مخالف جذبات اور عسکری جنون میں مبتلا ہو چکی ہے، اور مغرب کی پالیسیاں ہی یوکرین جنگ کا سبب بنیں۔

روس کے مطابق وہ امن مذاکرات کے لیے تیار ہے اور حالیہ مہینوں میں یوکرین کے ساتھ کئی دور کی بات چیت بھی ہو چکی ہے۔

تاہم ماسکو کا مؤقف ہے کہ یوکرین اور اس کے حمایتی ممالک جنگ کے اصل اسباب اور زمینی حقائق کو تسلیم نہیں کرنا چاہتے۔

زیلنسکی کی آئینی حیثیت پر سوال

روس نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ زیلنسکی کا صدارتی عہدہ قانونی طور پر ختم ہو چکا ہے کیونکہ ان کی پانچ سالہ مدت مئی 2024 میں مکمل ہو گئی تھی۔

 تاہم زیلنسکی نے مارشل لا کے نفاذ کا حوالہ دیتے ہوئے نئے انتخابات نہیں کرائے۔

روسی حکام نے اشارہ دیا ہے کہ مستقبل میں زیلنسکی کے دستخط شدہ معاہدے قانونی چیلنج کا سامنا کر سکتے ہیں، کیونکہ اصل اختیار اب یوکرینی پارلیمنٹ کے پاس ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکراتی کوششیں جاری ہیں، لیکن دونوں طرف سے اعتماد کا فقدان برقرار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: زیلنسکی نے کے لیے

پڑھیں:

آزاد کشمیر مہاجرین نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نرم

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت مہاجرین کی نشستیں مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے ان کی تعداد کم کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بڑے مطالبے کو تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت مہاجرین کی نشستیں مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے ان کی تعداد کم کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے مہاجرین کی نشستوں میں کمی سے متعلق اپنا مؤقف آزاد کشمیر حکومت تک پہنچا دیا ہے، جبکہ وزیراعظم آزاد کشمیر جلد جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے رابطہ کر کے وفاقی حکومت کے پیغام سے آگاہ کریں گے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وفاق کی جانب سے ویلی کی نشستوں میں اضافے اور مہاجرین کی نشستوں میں کمی کی تجویز زیر غور ہے، جس کا مقصد نمائندگی کے موجودہ تناسب میں توازن پیدا کرنا ہے۔

دوسری جانب اس معاملے پر سیاسی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئی ہیں اور کل ہونے والی کل جماعتی کانفرنس کے اجلاس میں اہم فیصلوں اور مشترکہ لائحہ عمل کے اعلان کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجرین اور ویلی نشستوں کے تناسب سے متعلق کسی بھی فیصلے کے آزاد کشمیر کی سیاسی ساخت اور انتخابی نظام پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس کے باعث تمام متعلقہ حلقے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر مہاجرین نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نرم
  • فہد مصطفیٰ نےپنجاب حکومت سے سینما اوقات کار میں نرمی کی اپیل کردی
  • کوہستان آپریشن سکینڈل: نیب نے 6 ارب سے زائد اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی