اپوزیشن والے ذہنی بیماری کا شکار ہو چکے ہیں، عطاتارڑ نے کل جماعتی کانفرنس کوچوں چوں کا مربہ قراردے دیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ اپوزیشن والے ذہنی بیماری کا شکار ہو چکے ہیں۔
وفاقی دارالحکومت میں کل جماعتی کانفرنس پرردعمل دیتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی 38فیصد سےسنگل ڈیجٹ پرآگئی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور مہنگائی میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔تحریک انصاف والے شرطیں لگاتے تھے کہ ملک کب ڈیفالٹ کرے گا، سٹاک ایکسچینج کے انڈیکس میں ہر روز ریکارڈ اضافہ ہو رہا ہے، حکومتی اقدامات سےمعیشت درست سمت میں گامزن ہے، بجٹ میں تنخواہ دارطبقے کے لیے ٹیکس کم کیا گیا۔
منی لانڈرنگ کا الزام، ارب پتی مکیش امبانی کے بھائی انیل امبانی کےبھارت چھوڑنے پر پابندی
وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کے پاس کوئی پالیسی نہیں ہے، اپوزیشن والے ذہنی بیماری کا شکار ہو چکے ہیں، اپوزیشن صرف تنقید برائےتنقید کرتی ہے، انہوں نے کل جماعتی کانفرنس کوچوں چوں کا مربہ قراردیتے ہوئے ناکام اے پی سی قرار دیا۔
عطا تارڑ نے تنقید کے نشتر چلاتے ہوئے کہا کہ مصطفیٰ نواز کھوکھر کا خاندان ریئل اسٹیٹ سے تعلق رکھتا ہے، وہ اپنے خاندانی اثاثوں سے متعلق بھی قوم کو بتائیں، ایران کے صدر کل سے پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں، جب بھی کسی ملک کا سربراہ پاکستان آتا ہے، یہ لوگ دورے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اپوزیشن والےعوام کوبیوقوف نہیں بنا سکتے۔
امریکا سے لے کر زیمبیا تک ہر ملک کو خبردار کرتےہیں اس ناجائز حکومت کے ساتھ کسی معاہدے تسلیم نہیں کریں گے،محمود خان اچکزئی
ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کوعالمی سطح پر پاکستان کی بڑھتی پذیرائی بھی ہضم نہیں ہو رہی ہے، بانی پی ٹی آئی کے دورمیں دوست ملکوں سے تعلقات خراب کیے گئے، پی ٹی آئی دورمیں ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچا، اپوزیشن کے پاس پروپیگنڈا کے سوا کچھ نہیں، کاش یہ لوگ ذاتی سیاست کے بجائے ملکی معیشت کی بہتری کے لیے بات کرتے۔
وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات کا مزید کہنا تھا کہ کاش یہ لوگ190 ملین پاؤنڈ کیس پر بات کرتے، نومئی کے کیسز میں ملزمان کا شفاف ٹرائل ہوا، نو مئی کیسز کے فیصلے میرٹ پر ہوئے، سانحہ کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں، ناکامی پی ٹی آئی والوں کا مقدر ہے، ان لوگوں کو منہ کی کھانا پڑے گی۔
مجھے نہیں پتہ کس کو کتنا نقصان ہوا، یہ صرف اسلام آباد کے ڈرائنگ رومزکی گفتگو تھی، مفتاح اسماعیل کی وضاحت
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: اپوزیشن والے کہنا تھا کہ
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔