اپنی شادی پر بادشاہ چارلس اور لیڈی ڈیانا کے چپکے چپکے آنسو بہانے کا عقدہ کھل گیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
دنیا نے 29 جولائی 1981 کو برطانوی شاہی خاندان کی ایک عظیم اور یادگار شادی دیکھی جب نوجوان و خوبصورت لیڈی ڈیانا کی شادی اس وقت کے (اس وقت کے) پرنس آف ویلز شہزادہ چارلس سے ہوئی۔ مگر اس شاہی تقریب سے ایک رات پہلے محل کی چمکتی دیواروں کے پیچھے کچھ اور ہی کہانی لکھی جا رہی تھی، آنسوؤں، الجھنوں اور ٹوٹے دلوں کی۔
یہ بھی پڑھیں: لیڈی ڈیانا، نرس سے شہزادی بننے والی حسینہ جو برطانوی ملکہ نہ بن سکی
رائل ماہر ایئن پیلہم ٹرنر نے انکشاف کیا ہے کہ شادی سے ایک دن قبل نہ صرف شہزادہ چارلس بلکہ لیڈی ڈیانا بھی زار و قطار روئی تھیں۔
اس کی وجہ ایک ایسا رشتہ جو ابھی ختم نہیں ہوا تھا یعنی کمیلا پارکر بولز کے ساتھ شہزادہ چارلس کی محبت۔
ایئن بتاتے ہیں کہ ڈیانا کے چہرے پر بھی دکھ اور الجھن صاف نظر آتی تھی۔ وہ شادی کرنے کے لیے دل سے تیار نہ تھیں لیکن ان کی بہن نے کہا کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے، تم دونوں کی تصویروں والے ٹی ٹاولز (چائے کے کپڑے) مارکیٹ میں آ چکے ہیں۔
لیڈی ڈیانا اس وقت اور بھی رنجیدہ ہو گئیں جب انہیں پتا چلا کہ شہزادہ چارلس نے شادی والے دن کمیلا کے نشان والے کف لنکس پہنے تاکہ کمیلا بھی کسی نہ کسی انداز میں اس دن کا حصہ رہے۔
مزید پڑھیے: ملکہ الزبتھ کی شادی کے کیک کا نایاب ٹکڑا فروخت، خریدار نے کھانے کا منصوبہ بنا لیا
شہزادہ چارلس اور کمیلا کی محبت کی کہانی نئی نہیں تھی۔ شادی سے پہلے بھی وہ کمیلا کے ساتھ گہری جذباتی وابستگی رکھتے تھے اور اگرچہ شہزادی ڈیانا سے شادی ملکہ الزبتھ دوم کی خواہش پر ہوئی لیکن ان کا دل کہیں اور بندھا ہوا تھا۔
مزید پڑھیں: تاج برطانیہ چارلس کے سر، شاہ کی شاہی میں جشن کا سماں
سنہ 1996 میں شہزادہ چارلس اور لیڈی ڈیانا نے باقاعدہ طلاق لے لی اور صرف ایک سال بعد دنیا نے لیڈی ڈیانا کو ایک المناک حادثے میں کھو دیا۔ اس وقت کے شہزادہ چارلس اور لیڈی ڈیانا کے 2 بیٹے ہیں، ولی عہد شہزادہ ولیم اور ان کے چھوٹے بھائی شہزادہ ہیری۔
یہ بھی پڑھیے: سینٹ ایڈورڈ تاج : 360 برس پرانا تاج جسے شاہ چارلس ایک بار ہی پہن سکیں گے
سنہ 2005 میں شہزادہ چارلس نے آخرکار اپنی دیرینہ محبت کمیلا سے شادی کر لی تھی۔ وہی کمیلا، جن کے لیے ایک دن لیڈی ڈیانا کے دل سے آنسو بہے تھے۔ ملکہ الزبتھ کی وفات کے بعد شہزادہ چارلس نے برطانیہ کا تخت سنبھال لیا۔ کمیلا اب ملکہ ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چارلس اور ڈیانا کے آنسو شاہ چارلس لیڈی ڈیانا ملکہ کمیلا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چارلس اور ڈیانا کے ا نسو شاہ چارلس لیڈی ڈیانا ملکہ کمیلا شہزادہ چارلس چارلس اور ڈیانا کے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔