بی جے پی کی ہدایت پر لاکھوں ووٹروں کو ووٹ دینے کے حق سے محروم کیا جارہا ہے، پرینکا چترویدی
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو مشورہ دیا تھا کہ آسانی سے دستیاب شناختی دستاویزات جیسے آدھار کارڈ، راشن کارڈ اور ووٹر آئی ڈی کو قبول کیا جائے لیکن کمیشن نے عدالت کی اس سفارش کو نظرانداز کردیا۔ اسلام ٹائمز۔ شیو سینا کی رکن پارلیمان پرینکا چترویدی نے بہار میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) پر سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سارا عمل بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ہدایات پر کیا جا رہا ہے اور ووٹر لسٹ میں یکطرفہ چھیڑ چھاڑ ہو رہی ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے پرینکا چترویدی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے ایس آئی آر کے تحت جو دستاویزات مانگے جا رہے ہیں، وہ عام لوگوں خصوصاً مہاجر مزدوروں کے لئے آسانی سے دستیاب نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بہار کے تقریباً 36 لاکھ مہاجر مزدور ملک کے مختلف حصوں میں کام کر رہے ہیں اور اگر ان کے ووٹ کاٹ دئے گئے تو وہ نہ بہار میں اور نہ ہی اپنے کام کی جگہ پر ووٹ ڈال سکیں گے، یہ ان کے جمہوری حق پر حملہ ہے۔
شیو سینا کی رکن پارلیمان پرینکا چترویدی نے الزام لگایا کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو مشورہ دیا تھا کہ آسانی سے دستیاب شناختی دستاویزات جیسے آدھار کارڈ، راشن کارڈ اور ووٹر آئی ڈی کو قبول کیا جائے لیکن کمیشن نے عدالت کی اس سفارش کو نظر انداز کر دیا۔ پرینکا چترویدی نے کہا کہ ان کی پارٹی اس معاملے پر ہر سطح پر آواز بلند کر رہی ہے اور عدالت میں بھی معاملہ زیر سماعت ہے۔ دوسری جانب انہوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس بیان پر بھی اعتراض ظاہر کیا، جس میں ٹرمپ نے ہندوستانی معیشت کو "مردہ" قرار دیا۔
پرینکا نے اسے تجارتی دباؤ بنانے کی کوشش قرار دیا اور کہا کہ ہندوستان دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کے 25 فیصد ٹیرف کے فیصلے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کو اس کا جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا واقعی دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدہ ہونے والا تھا، اگر ہاں، تو ٹرمپ نے اچانک بیان کیوں دیا اور ٹیرف کا اعلان کیوں کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ روس سے ہندوستان کے تعلقات کی بنیاد پر کسی اور ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ہندوستان پر دباؤ ڈالے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پرینکا چترویدی نے انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔