پشاور ریڈیوپاکستان میں توڑ پھوڑ کی تحقیقات کیلیے کمیشن بنایا جائیگا،صوبائی وزیر
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251103-08-11
پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک ) خیبر پختونخوا کے وزیر برائے مقامی حکومت، انتخابات اور دیہی ترقی مینا خان آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت ریڈیو پاکستان کی عمارت میں 9 مئی 2023 ء کے فسادات کے دوران ہونے والی توڑ پھوڑ کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیشن قائم کرے گی۔9 مئی 2023 ء کو سابق وزیرِ اعظم اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد ملک بھر میں فسادات پھوٹ پڑے تھے جو کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہے تھے۔ان فسادات کے دوران سرکاری املاک اور فوجی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا جن میں خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں واقع ریڈیو پاکستان کی عمارت بھی شامل تھی۔مینا خان نے پشاور میں وزیراعلیٰ کے مشیر شفیع اللہ جان کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ اعلان کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت ریڈیو پاکستان کی عمارت میں ہونے والی توڑ پھوڑ کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن تشکیل دے گی۔مینا خان نے کہاکہ چونکہ یہ ( عمارت ) خیبر پختونخوا میں ہے اور ہمارے دائرہ اختیار میں آتی ہے، اس لیے ہماری پہلی کابینہ ریڈیو پاکستان کی عمارت میں ہونے والے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیشن تشکیل دے گی۔انہوں نے کہاکہ یہ کمیشن اس بات کی تحقیقات کرے گا کہ ریڈیو پاکستان کی عمارت میں جو کچھ ہوا، اس کے پیچھے کون تھا، اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا تجزیہ کیا جائے گا، ہم دیکھیں گے کہ دروازے کس نے کھولے اور یہ فوٹیج اب تک سامنے کیوں نہیں آئی۔صوبائی وزیر نے اس وڈیو کے بارے میں بھی بات کی جس میں مبینہ طور پر خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو 9 مئی کے فسادات کے دوران لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس کے باہر دکھایا گیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وزیراعلیٰ اْس وقت پشاور میں موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات برائے خیبر پختونخوا امور اختیار ولی خان نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں اس وڈیو کا ذکر کیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ (سہیل آفریدی صاحب) عمارت کے سامنے تھے، لیکن انہیں سمجھنا چاہیے کہ اْس وقت سہیل آفریدی صاحب پشاور میں تھے۔’ ’ وہ کوئی ثبوت نہیں ڈھونڈ پا رہے، اس لیے جھوٹ کا سہارا لے رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ 9 مئی ایک جال ہے جس کے ذریعے پی ٹی آئی اور عمران خان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ وہ اس بہانے کو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی صاحب کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔شفیع اللہ جان نے بھی اختیار ولی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک دن قبل نوشہرہ میں پریس کانفرنس کے دوران جو ویڈیو دکھائی، وہ ’ ایڈیٹ شدہ’ تھی۔صحافیوں کے سوالات کے جواب میں مینا خان نے کہا کہ یہ وڈیو مارچ 2023 میں زمان پارک کے محاصرے کے دوران کی ہے، جب پولیس نے پی ٹی آئی کے بانی کو گرفتار کرنے کے لیے لاہور میں واقع ان کی رہائش گاہ میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔انہوں نے زور دے کر کہا:’ جو وڈیو دکھائی گئی، وہ 9 مئی کی نہیں ہے۔ وہ وڈیو ایڈیٹ اور مسخ کی گئی ہے۔ یہ وڈیو سہیل آفریدی صاحب کے سوشل میڈیا صفحات پر موجود ہے، کوئی بھی دیکھ سکتا ہے کہ یہ 9 مئی سے دو ماہ پہلے کی ہے۔ آپ ویڈیو میں ہمارے کارکنوں پر واٹر کینن کے استعمال کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔شفیع اللہ جان نے کہا کہ پی ٹی آئی اختیار ولی کے پھیلائے گئے ’ جھوٹ’ کا جواب دے گی، اور خبردار کیا کہ’ جو کوئی بھی جھوٹی ویڈیو استعمال کرے گا، اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ریڈیو پاکستان کی عمارت میں سہیل ا فریدی صاحب خیبر پختونخوا کی تحقیقات پشاور میں پی ٹی ا ئی کے دوران انہوں نے کے لیے کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
کولمبیا میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار، 4 افراد ہلاک
بگوٹا(نیوز ڈیسک) کولمبیا میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا جس کے نتیجے میں 4 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک طیارہ ٹیک آف کے دوران اچانک گر کر تباہ ہو گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق طیارہ اڑان بھرنے کے چند ہی لمحوں بعد حادثے کا شکار ہوا، جس کے باعث اس میں سوار تمام افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
کولمبیا کے فضائی حادثات کی تحقیقات کرنے والے ادارے نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ سیسنا 206 تھا۔
حکام کے مطابق طیارہ وسطی کولمبیا کے علاقے میٹا کے دارالحکومت ویلاویسینسیو سے لا ماکارینا کی جانب اڑان بھر رہا تھا تاہم ٹیک آف کے دوران نامعلوم وجوہات کی بنا پر کنٹرول کھو بیٹھا اور زمین پر جا گرا۔
حادثے کے فوراً بعد متعلقہ اداروں نے ہنگامی پروٹوکول نافذ کر دیے اور تحقیقاتی ٹیم کو جائے وقوعہ کی جانب روانہ کر دیا گیا، ٹیم طیارے کے ملبے، تکنیکی شواہد، موسم کی صورتحال اور دیگر اہم پہلوؤں کا جائزہ لے گی تاکہ حادثے کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔
فضائی تحقیقاتی ادارے کا کہنا ہے کہ حادثے سے متعلق عینی شاہدین کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جائیں گے جبکہ طیارے کی تکنیکی حالت اور پرواز سے قبل کی تیاریوں کا بھی تفصیلی معائنہ کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق ابتدائی مرحلے میں کسی حتمی وجہ کا تعین نہیں کیا جا سکتا تاہم تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر تحقیقات آگے بڑھائی جائیں گی۔
مقامی انتظامیہ نے ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات یقینی بنائی جائیں گی۔
مزید پڑھیں۔عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ