پاکستان، چین کے درمیان جہاز سازی کی صنعت میں تعاون بڑھانے کیلئے سمجھوتہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) پاکستان اور چین نے جہاز رانی ( شپنگ) کی صنعت میں تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کردیے۔پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق پاکستان صنعت میں بڑی تبدیلی آنے والی ہے کیونکہ آج پاکستان اور چین نے جہاز رانی ( شپنگ) کی صنعت میں تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں۔مفاہمت کی یادداشت پر پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی ) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور چین کے شینڈونگ شینشو گروپ کے چیئرمین نے دستخط کیے، اس موقع پر وفاقی وزیر برائے میری ٹائم افیئرز محمد جنید انور چوہدری بھی موجود تھے۔جنید چوہدری نے دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’ اس ایم او یر پر دستخط پاکستان اور چین کے درمیان سمندری شعبے میں بڑھتی ہوئی شراکت داری کی علامت ہیں، جس سے پاکستان کی شپنگ انڈسٹری میں مستقبل میں تعاون، سرمایہ کاری اور ترقی کی راہیں ہموار ہوں گی۔’انہوں نے زور دیا یہ تعاون علاقائی تجارت اور، رابطے کو فروغ دے گا، اور مشترکہ اقتصادی مقاصد کے ذریعے پاکستان کے کردار کو عالمی سمندری صنعت میں مزید مضبوط کرے گا۔کراچی میں قائم پی این ایس سی پاکستان کی سب سے بڑی قومی جہاز راں کارپوریشن ہے ٍ جو وزارت بحری امور کے تحت کام کرتی ہے، شینڈونگ شینشو گروپ کارپوریشن، جو شینڈونگ صوبے کے زبو سٹی میں قائم ہے، بین الاقوامی تجارت اور شپنگ کے شعبے میں ایک نمایاں چینی ادارہ ہے۔اس مفاہمتی یادداشت کا بنیادی مقصد کئی اہم شعبوں میں مشترکہ کوششیں کرنا ہے، جن میں مائع بلک ٹینکرز، خشک بلک کیریئرز اور کنٹینر شپ جیسے تجارتی کارگو جہازوں کی خرید و فروخت شامل ہے، جو مشترکہ یا انفرادی ملکیت میں یا نفع و نقصان کی شراکت کی بنیاد پر کی جائے گی۔بیان میں مزید کہا گیا ایم او یو میں شینشو کی جانب سے پی این ایس سی کو مختلف چارٹر میکانزم کے تحت جہاز کرائے پر دینے کی شقیں بھی شامل ہیں، جن میں ٹائم چارٹر، سپاٹ چارٹر اور بیئر بوٹ چارٹر شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: میں تعاون اور چین ایم او
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔