’وزیرِاعلیٰ نے فنڈ میں خیانت کی، وہ صادق و امین نہیں رہے‘: علی امین گنڈاپور کیخلاف مقدمے کی درخواست
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا علی امین گنڈاپور—فائل فوٹو
پشاور کی سیشن کورٹ نے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف مقدمے کے اندراج کےلیے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے 12 جولائی کو فریقین سے جواب طلب کر لیا۔
سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عصمت اللّٰہ وزیر نے کی۔
دسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کردی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ وزیرِ اعلیٰ نے لاہور بار ایسوسی ایشن کو 5 کروڑ روپے فنڈ دیا ہے، یہ فنڈ صوبے کے عوام کی امانت تھی، جس میں وزیرِاعلیٰ نے خیانت کی، جس سے وزیرِ اعلیٰ صادق و امین نہیں رہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اپنایا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے متعلقہ پولیس افسران کو درخواستیں دیں، درخواستوں پر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔
درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی ہے کہ عدالت متعلقہ فریقین کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔