ایسے عوامی نمائندوں کو جوتے مارنا چاہئیں جو ضلع میں کالج تک نہیں بنوا سکے‘گنڈاپور
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ 8 ماہ میں لنک روڈ اور ناصر باغ روڈ مکمل ہوگا، 2025ء کا منصوبہ 2035ء تک لے کر نہیں جانا اور اسی منصوبے کا سنگ بنیاد رکھوں گا جسے پورا کرسکوں۔ وزیراعلیٰ نے پشاور رنگ روڈ کے مِسنگ لنک ناصر باغ روڈ کی تعمیر کا افتتاح کیا۔ صوبائی وزراء مینا خان، ارشد ایوب اور معاون خصوصی عاصم بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ پشاور کو جتنی توجہ دینی چاہیے تھی اتنی نہیں دی گئی، اب ہمیں آگے کی سوچ رکھنی ہوگی۔ ہمیں مسائل ورثے میں ملے اور صوبے کے وسائل میں صرف 18 دن کی تنخواہ ملی، لیکن ہم اصولوں پر سیاست کرتے ہیں اور کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آگے دوڑ اور پیچھے چھوڑو والے کام نہیں کریں گے، 50 ارب روپے کا اے ڈی پی پلس دیں گے۔ پورے صوبے میں کوئی ایسی تحصیل نہیں چھوڑیں گے جہاں آر ایچ سیز نہ ہوں۔ ضلع بنانے کے ساتھ ساتھ وہاں سہولیات دینا ضروری ہیں، ضلع بنانے سے کام نہیں چلے گا، ترقی تحصیل و ضلع بنانے سے نہیں بلکہ سہولیات دینے سے ہوگی۔ وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ 15 سال سے ضلع و تحصیلوں پر سالانہ 30 ارب روپے خرچ کر رہے ہیں۔ ضلع بنے ہوئے ہیں لیکن وہاں ڈی ایچ کیو اسپتال اور کالج ہی نہیں جبکہ دل کے امراض کے لیے پورے صوبے میں ایک ہی اسپتال ہے جس کی وجہ سے اسپتالوں میں تین تین مہینے لوگ انتظار کر نے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عوامی نمائندوں کو جوتے مارنا چاہیے جو ضلع میں کالج تک نہیں بنوا سکے، ہم پچھلے ادوار کا کام اپنے دور میں کرکے دکھائیں گے، سن 2013 میں جو منصوبے شروع ہوئے اس پر کام آج تک نہیں ہوا۔ علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ انڈسٹریل اسٹیٹ سے نیا روڈ نکالیں گے جو اے ڈی پی میں شامل ہے، پورے پشاور کے لیے مکمل پیکیج ہے۔ ٹی ایم اے سے کام لینا دنیا کا مشکل ترین کام ہے، ملاوٹ کی وجہ سے لوگ مر رہے ہیں جس کا جواب ہمیں اللہ کو دینا ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے گورنر کے ساتھ ملاقات کی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کی حلف برداری تقریب میں گیا تھا، میں جو کرتا ہوں چھپاتا نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
گوگل نے صارفین کی آن لائن سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے سیلفی ویڈیو پر مبنی نئی بایومیٹرک شناختی سہولت متعارف کرا دی ہے جس کے ذریعے اہل صارفین پاس ورڈ یا ریکوری ڈیوائس دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اپنے اکاؤنٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کر سکیں گے۔
کمپنی کے مطابق نیا فیچر بنیادی طور پر اکاؤنٹ ریکوری کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ صارفین ابتدائی مرحلے میں اسکرین پر دی گئی ہدایات کے مطابق ایک مختصر سیلفی ویڈیو ریکارڈ کریں گے جس میں مختلف زاویوں سے چہرہ دکھانا ہوگا تاکہ شناخت محفوظ کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل پلے کی نئی پالیسی، متبادل ایپ مارکیٹس کو راستہ مل گیا
اگر بعد میں صارف اپنا پاس ورڈ بھول جائے، فون گم ہو جائے یا ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن استعمال نہ کر سکے تو وہ نئی سیلفی ویڈیو ریکارڈ کر کے اپنی شناخت کی تصدیق کرا سکے گا۔
گوگل کا سیکیورٹی سسٹم نئی ویڈیو کا پہلے سے محفوظ ویڈیو سے موازنہ کرے گا اور جدید لائیونیس چیک اور اینٹی اسپوفنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے اس بات کی تصدیق کرے گا کہ سامنے حقیقی شخص موجود ہے، نہ کہ تصویر، ریکارڈ شدہ ویڈیو یا مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ڈیپ فیک۔
یہ بھی پڑھیں: راستوں کی تلاش کے بعد گوگل میپس میں کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرائے جانے کی تیاریاں
گوگل کا کہنا ہے کہ یہ سہولت روزمرہ لاگ اِن کے لیے نہیں بلکہ صرف اکاؤنٹ ریکوری کے دوران استعمال کی جائے گی۔ کمپنی اس سے قبل پاس کیز (Passkeys)، سیکیورٹی کیز اور ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن جیسے متبادل طریقے بھی متعارف کرا چکی ہے تاکہ روایتی پاس ورڈز پر انحصار کم کیا جا سکے۔
پرائیویسی سے متعلق خدشات کے جواب میں گوگل نے کہا ہے کہ صارفین کی سیلفی ویڈیوز مکمل طور پر انکرپٹڈ انداز میں محفوظ کی جائیں گی، ان پر صارف کا مکمل اختیار ہوگا اور وہ کسی بھی وقت انہیں حذف کر سکیں گے۔ کمپنی کے مطابق یہ ویڈیوز صرف شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال ہوں گی جب تک کہ صارف کسی اضافی استعمال کی اجازت نہ دے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل میپ کی ایک غلطی اور تاجر علی جمیل کے سفرِ آخرت کی کہانی
ماہرین کے مطابق گوگل کا یہ اقدام ٹیکنالوجی کی دنیا میں پاس ورڈ کے بغیر محفوظ لاگ اِن سسٹمز کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے۔ اس سے قبل ایپل، مائیکروسافٹ سمیت متعدد بینک، ایئرلائنز اور سرکاری ادارے بھی بایومیٹرک شناختی نظام اپنا چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گوگل گوگل پاسپورڈ