عدالت نے مسلم مخالف فلم اودے پور فائلز کی مکمل اسکریننگ کا حکم کیوں دیا؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دہلی ہائی کورٹ نے متنازع فلم اودے پور فائلز کی نمائش کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکلا کو پوری فلم دکھانے کا حکم دیا ہے۔
اس معاملے کی حتمی سماعت 10 جولائی کو مقرر کی گئی ہے، جب کہ فلم سازوں نے فلم کی ریلیز 11 جولائی کو طے کر رکھی ہے۔
یہ درخواست جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس کی پیروی سپریم کورٹ کے سینئر وکیل کپل سبل نے کی۔ انہوں نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ فلم کے کچھ مناظر ایک مخصوص مذہبی برادری کے جذبات کو مجروح کرتے ہیں اور آئینی اقدار کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔
سنسر بورڈ کے وکیل نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ فلم سے تمام قابل اعتراض مناظر حذف کر دیے گئے ہیں۔ تاہم، اس پر کپل سبل نے سوال اٹھایا کہ محض ٹریلر سے اعتراضات ختم کرنا کافی نہیں، پوری فلم میں بھی ایسے مناظر کی غیر موجودگی کی کیا ضمانت ہے؟
اس نکتہ پر عدالت نے سنسر بورڈ اور فلم پروڈیوسر کے وکلا کو ہدایت دی کہ وہ فلم کی مکمل اسکریننگ درخواست گزار کے وکلا کے لیے ممکن بنائیں۔ فلم پروڈیوسر کے وکیل نے تجویز دی کہ یہ اسکریننگ کسی غیر جانب دار شخص کی نگرانی میں کی جائے، جس پر چیف جسٹس نے ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ فلم پر اعتراض کرنے والوں کو اسے مکمل طور پر دیکھنے کا حق حاصل ہے۔
چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اظہار رائے کی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ کسی مذہب یا برادری کو نشانہ بنایا جائے۔ اگر فلم مکمل دیکھنے کے بعد بھی اعتراضات برقرار رہتے ہیں، تو عدالت ان اعتراضات پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہ فلم
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔