اسلام آباد پولیس حملہ کیس:لاہور کی مقامی عدالت کا بانی پی ٹی آئی کوذاتی حیثیت میں پیش کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
لاہور کی مقامی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے پیٹرن انچیف اور بانی عمران خان کو ذاتی حیثیت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔بانی پی ٹی آئی کی لاہور کے علاقے ماڈل ٹائون میں واقع رہائشگاہ کے باہر اسلام آباد پولیس پر حملے کے کیس میں جوڈیشیل مجسٹریٹ نے بانی پی ٹی آئی کو ذاتی حیثیت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔جوڈیشل مجسٹریٹ نے حکم نامے میں کہا کہ جیل حکام بانی پی ٹی آئی کو 22 جولائی تک ذاتی حیثیت میں پیش کریں۔جوڈیشیل مجسٹریٹ کینٹ سہیل رفیق نے سپرنٹنڈنٹ کیمپ جیل کے نام طلبی کا حکم نامہ جاری کردیا۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ کیس کی پیروی کیلئے اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی کو ذاتی حیثیت میں پیش کیا جائے۔جوڈیشیل مجسٹریٹ نے حکم نامہ طلبی کے ساتھ روبکار بھی جاری کردیا۔ واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف تھانہ ریس کورس میں مقدمہ درج کروارکھا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ذاتی حیثیت میں پیش بانی پی ٹی آئی کو کا حکم
پڑھیں:
رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور میں رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق درخواست آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سےجمع کرائی گئی،جس میں ثاقب چدھڑ کےکاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزار کےمطابق ثاقب چدھڑ کےخلاف سپیکرپنجاب اسمبلی کےپاس نااہلی کی درخواست بھی دائر کی جا چکی ہے،اس لیے ان کی رکنیت برقرار رہنےیا نہ رہنے کےمعاملے کی جانچ پڑتال کے لیےانتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
درخواست میں مؤقف اختیارکیا گیا ہےکہ رکن پنجاب اسمبلی پرایک خاتون کومہنگی گاڑیاں،قیمتی تحائف اورجائیداد تحفےمیں دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں،جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ ہے۔
درخواست گزار نےمؤقف اپنایاکہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، لہٰذا ثاقب چدھڑ، انکی اہلیہ اور زیرِ کفالت افراد کے تمام پرانے اور نئے اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔
مزید :