Juraat:
2026-07-24@04:45:45 GMT

ممبئی ٹرین دھماکہ

اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT

ممبئی ٹرین دھماکہ

ڈاکٹر سلیم خان

وزیر اعظم نریندر مودی کے گیارہ سالہ تاریک دور اقتدارکی سنہری لکیر ممبئی ٹرین دھماکے کے گیارہ بے گناہ قیدیوں کے باعزت رہائی ہے۔ مودی کے زمانے کو محض اس لیے نہیں یاد کیا جائے گا کہ بلقیس بانو کے ساتھ ظلم کرنے والوں پر رحم کھاکر رہا کردیا گیابلکہ عدالتِ عظمیٰ کے ذریعہ ان لوگوں کا رسوا ہو کرجیل لوٹنا بھی یادگارہو گا۔ سابق رکن پارلیمان سادھوی پرگیہ ٹھاکر کی خاطر خود وزارتِ داخلہ کے تحت کام کرنے والی این آئی اے کا سخت سے سخت سزا یعنی پھانسی کا مطالبہ مودی یُگ کا وہ معجزہ ہے جس کا تصور محال تھا ۔ اس فیصلے نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کو بے چین کردیا ہے ۔ مہاراشٹر کی صوبائی حکومت عدالتِ عالیہ کے خلاف سپریم کورٹ میں جارہی ہے لیکن وہاں فیصلہ جو بھی ہو پرگیہ کے لیے پھانسی مطالبہ اور ٹرین دھماکے میں گرفتار بے گناہ قیدیوں کی رہائی چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ ہر مسلمان دہشت گرد نہیں اور نہ تمام ہندو بھی دیش بھگت ہیں۔ ممبئی ٹرین دھماکہ معاملہ میں دیر سے سہی مگر انصاف تو ملا۔
11 جولائی 2006 کو ممبئی کی لوکل گاڑیوں میں ٧سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے تھے جن میں 180 سے زائد افراد کی موت اور تقریباً 800 لوگ زخمی ہوگئے ۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ممبئی آکر سوگواروں کے آنسو پونچھے اور جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا وعدہ کیاتھا۔ آگے چل کر انتظامیہ نے 13 مسلم نوجوانوں پر دھماکہ کرنے کا الزام لگا کر گرفتار کرلیا۔ ان میں سے کمال انصاری تو فیصلے سے قبل دارِ فانی سے کوچ کرگئے ۔ ان کے علاوہ محمد فیصل عطاء الرحمن شیخ’ احتشام قطب الدین صدیقی’ نوید حسین خان ، آصف خان ،تنویر احمد محمد ابراہیم انصاری’ کو سیشن کورٹ نے 2015 میں پھانسی کی سزا سنادی نیز باقی ٧ محمد ماجد محمد شفیع’ شیخ محمد علی عالم شیخ’ محمد ساجد مرغوب انصاری’ مزمل عطاء الرحمن شیخ’ سہیل محمود شیخ ،ضمیر احمد لطیف الرحمن شیخ کوعمرقید کی سزا سنائی گئی نیز وحید شیخ کو بری کردیا گیا۔ مذکورہ بالا فیصلے کو عدالتِ عالیہ میں چیلنج کیا تو اگلے نو سالوں تک سماعت ہی نہیں ہوئی اور بالآخر 19 برس بعد بمبئی ہائی کورٹ نے تمام 12 ملزمین کو بری کردیا کیونکہ استغاثہ کیس کو ثابت کرنے میں بری طرح ناکام رہا۔
جسٹس انیل کلور اور جسٹس شیام چنڈک کی خصوصی بنچ نے بہت تفصیل و انہماک کے ساتھ یہ فیصلہ لکھا جس کا لب لباب یہ ہے کہ استغاثہ یہ تک نہیں ثابت کر سکا کہ آخر کس قسم کے بم استعمال کئے گئے تھے ۔ اس کے ذریعہ جو شواہد پیش کیے گئے ان کی بنیاد پر ملزمین کو خاطی نہیں قراردیاجاسکتا ہے ۔اس کے علاوہ گواہوں کے بیانات اور ملزمین سے مبینہ برآمدگی ہائی کورٹ کو مطمئن نہیں کرسکی استغاثہ یعنی پولیس کی بابت یہ انکشاف کیاگیا کہ وہ اہم گواہوں پر جرح میں ناکام رہا۔ اس نے نہ تو برآمدکردہ اشیاء کی ٹھیک سے مہربندی کی تھی اور نہ ہی انہیں سنبھال کر رکھا تھا۔ ہائی کورٹ نے بعض ملزمین کے اقبالیہ بیانوں کو بھی یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ وہ انہیں اذیت دے کر لئے گئے تھے نیز ناکافی اور جھوٹے تھے ۔ یہ ایک دوسرے کے کاپی پیسٹ بھی پائے گئے ۔ عدالت کے مطابق ملزمین نے ثابت کردیا کہ اقبال ِ جرم کرواتے وقت انہیں اذیت دی گئی تھی۔ یعنی پولیس کے جھوٹ کی ہانڈی بھری عدالت میں پھوٹ گئی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں تکنیکی لاپرواہیوں پر بھی گرفت کی ۔ جج صاحبان نے ملزمین کی شناختی پریڈ کواس بنیاد پر مسترد کردیا کہ پولیس کے جن عہدیداروں نے یہ پریڈ کرائی انہیں اس کا اختیار ہی نہیں تھا۔ عدالت نے شواہد کی گواہی کو اس لیے قبول کرنے سے انکار کردیا کیونکہ عینی شاہدین نے پولیس کے سامنے واقعہ کے 4 ماہ بعد ملزمین کی شناخت تھی اور عدالت میں اس کی نوبت 4 سال بعدآئی۔ عدالت نے اس حقیقت کی جانب بھی انگشت نمائی کی کہ واقعہ کے دن تو گواہوں کے لیے ملزمین کو اچھی طرح دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا اس لیے ان سے درست شناخت کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے ؟ تعجب کی بات یہ ہے اتنی بڑی خامیوں کی جانب سیشن کورٹ کی توجہ کیوں نہیں گئی؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عام طور ایسے نازک معاملات میں نچلی عدالتیں گہرائی جانے کے بجائے انتظامیہ کی تائید کردیتی ہیں لیکن خدا کا شکر ہے عدالتِ عالیہ نے اپنی ذمہ داری بخیر و خوبی ادا کی۔ یہی وجہ ہے کہ مہاراشٹر کی مختلف جیلوں قید ملزمین نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ عدالت اور وکیلوں کا شکریہ ادا کیا۔
ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے جہاں بے قصور قیدیوں کے اہل خانہ اور سماج کے سارے عدل پسند لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی وہیں مسلمانوں سے نفرت کرنے والے زعفرانی تلملا اٹھے ۔ دھماکے سے متاثرین کو چونکہ باور کرادیا گیا تھا کہ یہی ملزمین دھماکے کے مجرم بھی ہیں اس لیے فیصلے سے مایوسی ہوئی ۔ اب وہ سوال کررہے ہیں کہ اگر یہ لوگ بے قصور ہیں آخر اصلی مجرم کون ہے ؟ اتفاق سے شیو سینا
( شندے ) کے ترجمان سنجے نروپم نے بھی ایسے ہی سوالات کیے ۔ انہوں نے فیصلہ پر مایوسی کا اظہار کرنے کے بعد کہا کہ اگر ان ملزمین میں سے کوئی بھی سلسلہ وار ٹرین بم دھماکہ کے لئے ذمہ دار نہیں ہے تو پھر یہ بم دھماکے کس نے کئے ؟کیا ہماری جانچ ایجنسی کے کام میں کوئی کمی رہ گئی ہے ؟ انہوں نے جانچ ایجنسی سے پوچھا کہ کیاجن ملزمین کو انہوں نے پکڑا تھا ان کے خلاف ضروری ثبوت نہیں ملے تھے ؟کیاوہ ثبوت جمع نہیں کر سکے تھے ؟
سنجے نروپم نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت اور جانچ ایجنسی بامبے ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف اونچی عدالت جائے گی لیکن سوال یہ ہے کہ ان جعلی شواہد کی بنیاد پر بے قصور لوگوں کو سزا دلوانے کے بجائے کیا اصلی مجرموں کو پہچانا جاسکے گا؟ بی جے پی کے ترجمان کریٹ سومیا صدمہ میں ہیں اور ممبئی کے شہریوں کی خاطر انصاف کی خاطردھماکہ کرنے والے دہشت گردوں کو پھانسی پر لٹکانا چاہتے ہیں مگر اس کے لیے کسی بے قصور کے بجائے قصور وار کی شناخت لازمی ہے ۔ وزیر محصولات چندر کانت باونکلے نے کہا کہ ”اس معاملے میں وزیر اعلیٰ سے بات چیت کے دوران کمیوں کو دور کر کے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے پرغور و خوض کیا جائے گا ۔ این سی پی(شردپوار ) کے ریاستی صدر ششی کانت شندے نے اس معاملے میں حکومت اور ایجنسی کو جائزہ لے کر سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کی رائے دی ۔ سماجوادی پارٹی نے اس فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے بری ہونے والے سبھی لوگوں کو معاوضہ دینے کا مطالبہ کردیاکیونکہ جھوٹے الزام میں گرفتار کر کے حکومت نے ان کے 19سال ضائع کردیئے ۔
اس بابت سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے کہا کہ ” ہم بامبے ہائی کورٹ کے فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہیں اور شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس نے ان نوجوانوں کو انصاف دیا”۔ انہوں نے سوال کیا کہ ” حکومت کیسے کسی بے گناہ کو اس طرح قید میں رکھ کر ان کی عمر کے بیش قیمتی 19 سال ضائع کر دیئے ؟ وہ بولے ” جاپان میں ایک شخص کو با عزت بری کیاگیاتو وہاں کی حکومت نے اس نوجوان کو نہ صر ف معاوضہ دیا بلکہ معافی بھی مانگی۔ دیگر ممالک میں جس طرح ملزمین کوبے قصور ثابت ہونے پر حکومت کی جانب سے معاوضہ دیاجاتا ہے اسی طرح حکومت مہاراشٹر کو بھی ان12 بے گناہوں کو معاوضہ دینا چاہئے ۔” ممبئی کانگریس کی صدر و رکن پارلیمان ورشا گائیکواڑ نے بامبے ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے توازن قائم کرنے کی ناکام کوشش کی۔ موصوفہ نے کہا کہ”ہمیں عدلیہ پر پورا بھروسہ ہے نیز ممبئی کے دیگر شہریوں کی طرح ہمارا بھی یہی مطالبہ ہے کہ ممبئی ٹرین بم دھماکے کے جو بھی اصل مجرم ہیں انہیں یقینی طور پر سخت سے سخت سزا دی جائے یعنی جعلی مجرمین پر نزلہ نہ اتارا جائے ۔
ورشا گائیکواڑ نے ریاستی حکومت سے درخواست کی کہ وہ مجرمین کے خلاف ضروری ثبوتوں اور دستاویزات کے ساتھ سپریم کورٹ میں اپیل کرے کیونکہ جب بھی اس طرح کا دہشت گردانہ حملہ ہوتا ہے تواس میں بے گناہ شہریوں کی جان جاتی ہے اور سرکاری و نجی املا ک کا بھی نقصان ہوتا۔ یہ بات درست ہے مگرایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ایسے حملوں کی تفتیش میں سرکاری ایجنسیاں اپنی ذمہ داری کما حقہُ ادا نہیں کرتیں ۔ افسران اپنے سیاسی آقاوں کو خوش کرنے کی خاطر بے قصور مسلمانوں کو گرفتار کرکے اپنی ترقی کرواتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کو تو انعام و اکرام سے نوازہ جاتا ہے مگر ونود بھٹ جیسا انصاف پسند افسرجب سرکار کی تائید کرکے جھوٹے الزامات گھڑنے سے انکار کردے تو اس پر اتنا دباو ڈالا جاتا ہے کہ وہ خود کشی پر مجبور ہوجائے لیکن وہ زندہ ضمیر لوگ بے قصور کو پھنسانے کے بجائے اپنی جان گنوانے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ یہ فیصلہ اگر کانگریس کے دور اقتدار میں آتا تو اس کو مسلمانوں کی ناز برداری کا نام دیا جاتا مگر یہ تو مودی راج میں آگیا ایسے میں ارشادِ قرآنی کی یاد آتی ہے ” کیا یہ کوئی چال چلنا چاہتے ہیں؟ (اگر یہ بات ہے ) تو کفر کرنے والوں پر ان کی چال الٹی ہی پڑے گی”۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: سپریم کورٹ میں ہائی کورٹ کے ملزمین کو کے بجائے انہوں نے کے خلاف بے گناہ کہا کہ اس لیے

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم