Juraat:
2026-06-02@23:06:34 GMT

بھارت بھاگ نکلا!

اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT

بھارت بھاگ نکلا!

پروفیسر شاداب احمد صدیقی

پاکستان سے جنگ میں عبرتناک شکست کے بعد بھارت ہر محاذ پر منہ چھپاتا پھر رہا ہے ۔بھارت پہلگام واقعہ اور آپریشن سندور کی ناکامی کے بعد بھی سازشیں کر رہا ہے ۔ بھارت کی معیشت اور سفارتی شکست کے بعد اب کھیل کے میدان میں بھی شکست فاش ہوئی۔بزدل بھارتیوں کے دل میں پاکستان کا ڈر خوف بیٹھ گیا ہے ہر میدان میں منہ چھپاتے پھر رہیں۔ناکامی، ذلت اور رسوائی سے بچنے کے لیے کھیل کے میدان سے بھی بھاگ گئے ۔گذشتہ دنوں ورلڈ چیمپئنز شپ آف لیجنڈز ( ڈبلیو سی ایل) 2025ء کا چوتھا میچ پاکستان اور بھارت کے درمیان برمنگھم میں ہونا تھا جسے منسوخ کردیا گیا۔اس میچ کی منسوخی کا اعلان ڈبلیو سی ایل کے سوشل میڈیا ایپ ایکس پر موجود آفیشل اکاؤنٹ پر کیا گیا۔سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ہم نے ڈبلیو سی ایل میں ہمیشہ کرکٹ کو پسند کیا اور ہمارا واحد مقصد شائقین کو کچھ اچھے اور خوشگوار لمحات دینا ہے ۔واضح رہے کہ میچ منسوخ ہونے کے اعلان سے پہلے بھارتی میڈیا پر کچھ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ 5بھارتی کرکٹرز نے میچ سے قبل ایک شرط رکھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر سابق پاکستانی آل راؤنڈر شاہد آفریدی کو اسکواڈ میں شامل کیا جاتا ہے یا اسٹیڈیم کے احاطے میں داخل ہوتے ہیں تو وہ میچ نہیں کھیلیں گے ۔
بھارتی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ سابق بھارتی کرکٹر عرفان پٹھان، یوسف پٹھان، سریش رائنا، ہربھجن سنگھ اور شیکھر دھون نے شاہد آفریدی کی پاکستانی اسکواڈ میں موجودگی پر سخت اعتراض کیا ہے اور ٹورنامنٹ کے منتظمین کو اپنا مؤقف باضابطہ طور پر بتا دیا ہے ۔
بھارتی میڈیا رپورٹس میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہربھجن سنگھ اور یوسف پٹھان سیاسی کشیدگی اور عوامی جذبات کا حوالہ دیتے ہوئے پاک بھارت میچ سے پہلے ہی دستبردار ہو چکے ہیں۔پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ کرکٹر شاہد خان آفریدی پاک فوج اور کشمیر یوں کے حق میں بیان بازی کے لئے دنیا بھر کے میڈیا میں شہرت رکھتے ہیں۔بھارتی کرکٹرز کو حق اور سچ کے لئے ان کا بولنا پسند نہیں آیا اور ماضی میں وہ کرکٹرز جو شاہد آفریدی کے ساتھ کھیلتے رہے ہیں انہوں نے سابق کپتان اور پاکستانی ٹیم کے ساتھ اتوار کو برمنگھم میں ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈزکا میچ کھیلنے سے انکار کردیا۔بھارتی کھلاڑیوں نے جینٹلمین گیم کو بھی آلودو کر دیا۔ اس وقت بھارتیوں کی مثال یہ کہ کِھسیانی بِلّی کَھمبا نوچے ۔ یہ تعصب اور نفرت کی آگ میں جل کر راکھ ہو جائیں گے ۔بھارتی کھلاڑیوں کا کھیل کے میدان سے بھاگ جانا بزدلی ہے ۔ بہادر لوگ میدان میں ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔پاکستانی کھلاڑیوں نے کبھی بھی کھیل کے میدان میں کھیلنے سے انکار نہیں کیا۔ہمارے کھاڑی بھارت کی سر زمین پر بھی کھیلنے گئے ۔وہ یہ میچ کھیلنے کے لیے تیار تھے مگر ڈرپوک بھارتی کھاڑی میدان چھوڑ کر بھاگ گئے اس غیر اخلاقی حرکت سے شائقین کرکٹ کے جذبات کو ٹھیس پہنچی۔پاکستانی شائقین کے علاوہ بھارتی شائقین نے بھارت کے اس اقدام کو غیر سنجیدہ اور ناپسند کیا۔تاریخ میں بھارتی کھلاڑی کا یہ ناپسندیدہ فیصلہ ہمیشہ سیاہ الفاظ اور بدترین تصور کیا جائے گا۔
انڈیا والے جس طرح شاہد آفریدی سے ڈر رہے تھے ، لگتا ہے جیسے شاہد آفریدی نے ان کے پانچ رافیل طیارے مار گرائے ہوں۔ انڈین کرکٹرز کی بزدلی نے شاہد آفریدی کو مزید شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی بوم بوم آفریدی بھارتیوں کے دل و دماغ پر چھائے ہوئے ہیں۔ ان کا میدان میں آنا ہی بھارتی کھلاڑیوں کے لیے نفسیاتی دباؤ کا باعث بن گیا، جس کے باعث ایک اہم مقابلہ کھیلے بغیر ہی ختم کر دیا گیا۔بھارت کے مسلمانوں اور سکھوں پر انڈیا نے زمین تنگ کی ہوئی ہے ۔ دو مسلمان ہیں اور تیسرا سکھ ان دونوں قوموں کو وہاں پریشانی سے گزرنا پڑتا ہے کیونکہ یہ دونوں ہندو نہیں ہیں تو یہ بیچارے اپنی وطن سے وفاداری ثابت کرنے کے لیے سب کرتے ہیں۔کرکٹ میں یہ دونوں بھائی عرفان پٹھان، یوسف پٹھان اور سیاست میں اویس الدین اویسی پاکستان کی مخالفت کرنے میں پہلے نمبر پر ہیں صرف خود کو سچا ہندوستانی ثابت کرنے کی خاطر لیکن ان کی عزت ایک ٹکے کی نہیں ہے ۔بھارت اور وہاں کی متعصب عوام نے کھیل اور فنون لطیفہ کی راہ میں روڑے اٹکائے ہیں۔
بھارتی حکومت نے پاکستانی فنکاروں پر بھی پابندی عائد کر دی۔کھیل اور فنون لطیفہ کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔کھلاڑیوں، اداکاروں، موسیقاروں، لکھاریوں اور فنون لطیفہ کے دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد محبت کے سفیر مانے اور سمجھے جاتے ہیں، ان کا کام محبتیں اور امن پھیلانا ہے ۔ یہ امن، یکجہتی اور محبت کو فروغ دینے والے سفیر ہوتے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور تنازع میں کھیل اور فنون لطیفہ سے وابستہ شخصیات کو نہیں گھسیٹا جانا چاہیے ۔
محبت کی تو کوئی حد، کوئی سرحد نہیں ہوتی
ہمارے درمیاں یہ فاصلے ، کیسے نکل آئے
کھیل کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے ۔ کھلاڑیوں کو اپنے ملک کا سفیر ہونا چاہیے ، شرمندگی کا باعث نہیں بننا چاہیے ۔پاکستانی عوام اور حکومت نے ہمیشہ کھیل اور فنون لطیفہ کی ترویج میں مثبت کردار ادا کیا ہے ۔ لیکن بھارت نے ہمیشہ راہ فرار اختیار کیا۔ بھارتی میڈیا آگ لگانے کا کام کرتا ہے ان کے پاس پاکستان کی ہرزہ سرائی کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ ہر وقت پاکستان کے داخلی معاملات پر بات کرتے ہیں۔بھارت کھیل میں اپنی بدمعاشی اور اجارہ داری ختم کرے اور دنیا میں اپنا تماشا نہیں بنائے ۔دنیا کے دیگر ممالک بھی بھارتی جارحانہ رویوں کو اچھی طرح سمجھ گئے ہیں۔حال ہی میں بھارتی کھلاڑیوں نے آسٹریلیا کے کھلاڑیوں کے ساتھ میچ کے دوران بدتمیزی کی۔ مستقبل میں ایشیا کرکٹ کپ ہونے والا ہے بھارتیوں نے ابھی سے رخنہ ڈالنا شروع کر دیا ہے ۔بھارتی کرکٹ بورڈ مسلسل سازشوں میں مصروف ہے کہ ٹورنامنٹ نہ ہو اور پاکستان کو سوا ارب روپے کابھاری مالی خسارہ ہوسکتا ہے ۔پی سی بی چیئرمین محسن نقوی کو ایشین کرکٹ کونسل صدر کی حیثیت سے ناکام بنایا جائے ۔سری لنکا اور افغانستان بھی بھارتی لابی میں شامل ہوکرپاکستان مخالف سازشوں میں متحرک ہیں۔محسن نقوی ایشین کرکٹ کونسل کے چیئرمین ہیں اس لئے بھارت مسلسل کوشش کررہا ہے کہ پاکستان سے جنگ ہارنے کے بعد کرکٹ کے میدان میں پاکستان کو مالی نقصان پہنچائے ۔ انہیں پاکستان کے علاوہ بنگلادیش سے بھی مسئلہ ہے ۔ان کا فرمائشی پروگرام ختم نہیں ہوتا۔ ہم یہاں نہیں کھلیں گے ہم وہاں نہیں کھلیں گے ۔ پاکستان کو ان کے خلاف سخت موقف اختیار کرنا چاہیے اور اپنے آپ کو منوانا چاہیے ۔ کرکٹ کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروانا چاہیے ۔ اگر بھارتی کھیلنا نہیں چاہتے تو ان کی منت سماجت نہیں کریں۔ اب وقت آگیا ہے کہ جنگ کی طرح ان کو کھیل میدان میں بھی سبق سکھانا چاہیے ۔
بھارتی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پی سی بی کو ایشیا کپ اور دیگر بین الاقوامی کرکٹ ٹورنامنٹس سے تقریباً 8۔8 ارب روپے ( 264 کروڑ بھارتی روپے )آمدنی متوقع ہے ۔پاکستان کوایشیا کپ سے 1۔16ارب روپے ( 34۔8 کروڑبھارتی روپے )کی آمدنی کی توقع ہے ۔بھارتی میڈیا کا دعوی ہے کہ درحقیقت، بورڈ کے ایک معتبر ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ پی سی بی نے اس مالی سال کے دوران آئی سی سی سے اپنے حصے کے طور پر 25۔9ملین امریکی ڈالر (تقریبا ساڑھے سات ارب روپے ) مختص کیے ہیں۔ان پیسوں کو پی سی بی کے سالانہ اخراجات کے لئے اہم قرار دیا جارہا ہے ۔
بھارتی میڈیا دعوی کررہا ہے کہ اگر اس سال ایشیا کپ نہ ہوا تو پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھاری مالی نقصان ہوگا۔پی سی بی ترجمان نے بھارتی میڈیا رپورٹس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم بھارتی پروپیگنڈے کا جواب نہیں دیتے ۔ ویسٹ انڈیز اور ساتھ افریقہ سے عبرتناک شکست کے بعد بھارت ورلڈ چیمپئنز شپ آف لیجنڈز کی دوڑ سے باہر ہو گیا۔بھارت کا غرور خاک میں مل گیا۔بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ایشیا کپ بھی خطرے میں پڑ گیا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: بھارتی کھلاڑیوں کھیل کے میدان بھارتی میڈیا شاہد آفریدی بھارتی کرکٹ پاکستان کو ایشیا کپ پی سی بی کے لیے گیا ہے کے بعد

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد