کمبوڈیا کا ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل انعام کے لیے نامزد کرنے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
پاکستان اور اسرائیل کے بعد کمبوڈیا نے بھی سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
کینیڈا کی نائب وزیرِاعظم سن چنتھول نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خطے میں قیامِ امن کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جنگ بندی ٹرمپ کی مداخلت سے ممکن ہوئی، حکومت ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’نوبیل انعام کا جنون ٹرمپ کو تاریخ نظر انداز کرنے پر مجبور کر رہا ہے‘
فنوم پن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سن چنتھول نے کہا کہ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان حالیہ سرحدی جھڑپوں کا خاتمہ ٹرمپ کی ذاتی مداخلت سے ممکن ہوا، اور وہ خطے میں امن لانے کی اپنی کوششوں پر نوبیل امن انعام کے مستحق ہیں۔
سن چنتھول، جو کمبوڈیا کے اعلیٰ ترین تجارتی مذاکرات کار بھی ہیں، نے مزید کہا کہ اُن کا ملک امریکی حکومت کی جانب سے درآمدی محصولات میں کمی پر بھی شکر گزار ہے۔ واشنگٹن نے پہلے 49 فیصد ٹیرف کی دھمکی دی تھی، جو بعد میں کم ہو کر 19 فیصد ہو گیا، اگر ٹیرف 36 فیصد بھی رہتا تو کمبوڈیا کی ملبوسات اور جوتے بنانے والی صنعت تباہ ہو سکتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ’میں کچھ بھی کرلوں مجھے نوبیل انعام نہیں ملے گا‘، ٹرمپ اس قدر مایوس کیوں؟
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے دونوں ممالک کی قیادت سے براہ راست رابطہ کیا، جس کے بعد ملیشیا میں جنگ بندی طے پائی۔ 5 روزہ شدید جھڑپوں میں کم از کم 43 افراد ہلاک اور 3 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے تھے۔
اس سے قبل جون میں پاکستان بھی ٹرمپ کو بھارت کے ساتھ کشیدگی میں کمی کی کوششوں پر نوبیل انعام کے لیے نامزد کرنے کا اعلان کرچکا ہے، جبکہ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے گزشتہ ماہ ان کی باقاعدہ نامزدگی کی تصدیق کی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسرائیل امریکی صدر پاکستان تھائی لینڈ جنگ بندی کمبوڈیا نوبیل انعام.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل امریکی صدر پاکستان تھائی لینڈ کمبوڈیا نوبیل انعام انعام کے لیے نامزد کرنے نوبیل انعام ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر ٹرمپ کو
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔