صدر ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ ختم کروائی، نوبل انعام ملنا چاہیے، وائٹ ہاؤس WhatsAppFacebookTwitter 0 1 August, 2025 سب نیوز

واشنگٹن (آئی پی ایس) وائٹ ہاؤس نے پاک بھارت جنگ ختم کروانے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیلیے امن کے نوبل انعام کا مطالبہ کر دیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق پریس سیکرٹری وائٹ ہاؤس کیرولین لیویٹ نے اپنے حالیہ بیان میں زور دیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی سطح پر متعدد امن معاہدے اور جنگ بندیوں میں سہولت فراہم کی ہے، ان کی یہ سفارتی کامیابیاںامن کے نوبل انعام کیلیے ان کی نامزدگی کی ضمانت دیتی ہیں۔
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کی صورتحال پر بیان دیتے ہوئے کیرولین لیویٹ نے کہا کہ امن کے محاذ پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کروانے میں مدد کی، دونوں ممالک ایک مہلک تنازع میں تھے جس کے باعث تقریباً 3 لاکھ لوگ بے گھر ہوئے۔
ترجمان وائٹ ہاؤس نے مزید کہا کہ امریکی صدر نے اپنے چھ ماہ کے دوران ہر ماہ اوسطاً ایک امن معاہدے یا جنگ بندی کی ثالثی کی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے وزرائے اعظم کے ساتھ براہ راست رابطے میں یہ واضح پیغام شامل ہے کہ جب تک تنازع ختم نہیں ہوتا تجارت پر بات چیت نہیں ہوگی، اس کے نتیجے میں تیز رفتار امن مذاکرات ہوئے، متعدد جانیں بچیں اور تجارتی مذاکرات کو جاری رکھنے کے قابل بنا۔

کیرولین لیویٹ نے اسرائیل ایران، پاک بھارت، سربیا کوسوو اور مصر ایتھوپیا سمیت مختلف ممالک کے درمیان تنازعات کو حل کرنے میں ٹرمپ کی شمولیت کا خاکہ پیش کیا۔

انہوں نے روشنی ڈالی کہ ان کامیابیوں نے ان کے چھ ماہ کے دور میں ماہانہ اوسطاً ایک سفارتی کامیابی حاصل کی۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے پاک بھارت جنگ بندی کروائی جسے پاکستان نے خوب سراہا لیکن نئی دہلی اسے مسترد کرتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراوورسیز پاکستانی ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی،حقوق کا تحفظ یقینی بنائینگے،شفقت محمود  فلسطین لبریشن آرگنائزیشن پر امریکی پابندیاں حیران کن ہیں، چینی وزارت خارجہ بھارت خود کو ایک ذمہ دارعالمی طاقت کے طور پر پیش کرنے میں ناکام رہا، امریکی وزیر خزانہ چین کے خلاف امریکی نمائندے کی بہتان تراشی ناقابل قبول ہے، چینی نمائندہ برطانیہ میں مسلسل دوسرے برس ’محمد‘ لڑکوں کا سب سے مقبول نام بن گیا ٹرمپ کے جرمانہ عائد کرنے کا خوف، مودی نے روس سے خام تیل کی خریداری روک دی سندور تو اجڑ گیا، جیا بچن نے راجیہ سبھا میں مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: نے پاک بھارت جنگ ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاو س

پڑھیں:

ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔

(جاری ہے)

جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔

امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔

امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل