امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسّنٹ نے بھارت کے ساتھ تجارتی مذاکرات پر اظہارِ مایوسی کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی پوری انتظامیہ ان مذاکرات کی سست رفتاری سے پریشان ہے۔

 یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر 25 فیصد درآمدی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ ٹیرف دراصل بھارت پر دباؤ ڈالنے کی ایک حکمت عملی ہے تاکہ وہ روس سے تیل اور فوجی سازوسامان کی خریداری سے باز آئے، اور امریکی مفادات سے ہم آہنگ پالیسی اختیار کرے۔

 روسی تیل کی خریداری بھی وجہ تنازع

ٹرمپ انتظامیہ نے کہا ہے کہ بھارت عالمی پابندیوں کا فائدہ اٹھا کر روس سے سستا تیل خرید رہا ہے، اور بعد ازاں اسے ریفائن کرکے عالمی منڈی میں فروخت کر رہا ہے۔ بیسّنٹ نے کہا:

یہ بھی پڑھیے امریکا نے پاکستان پر 19 فیصد ٹیرف عائد کر دیا، بھارت کو سختی کا سامنا

’بھارت نے روسی تیل کی بڑے پیمانے پر خریداری کی ہے، جو کہ پابندیوں کے باوجود جاری ہے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ یہ عالمی سطح پر بھارت کا اچھا کردار ہے۔‘

 بیسّنٹ: ’’بھارت نے مذاکرات کو سست روی کا شکار کیا‘‘

سی این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بیسّنٹ نے کہا:

’بھارت شروع میں مذاکرات کی میز پر آیا، لیکن اب بہت سست روی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ صدر اور پوری ٹیم ان کے رویے سے مایوس ہے۔‘

 ’بھارت کا کردار عالمی سطح پر مشکوک ہو چکا ہے‘، بیسّنٹ

امریکی وزیر خزانہ بیسّنٹ نے بھارت پر روس کے ساتھ تجارتی تعلقات جاری رکھنے پر شدید تنقید کی، خاص طور پر بھارت کی جانب سے پابندی زدہ روسی تیل کی خریداری اور اسے ریفائن کرنے کے بعد دوبارہ فروخت کرنے کے عمل کو، جسے انہوں نے بھارت کے ’عالمی ساکھ‘ کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

 مارکو روبیو کی شدید تنقید

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی بھارت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی روس سے مسلسل خریداری ماسکو کی جنگی مشین کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ یہ واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات میں واضح تناؤ کی ایک بڑی وجہ ہے۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 7 بھارتی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں

گزشتہ روز امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا تھا:

’مجھے پروا نہیں بھارت روس کے ساتھ کیا کرتا ہے، یہ دونوں اپنی مردہ معیشتوں کو لے کر ڈوب جائیں تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘

 امریکا کا دباؤ، بھارت کا تحفظِ خودمختاری پر اصرار

صدر ٹرمپ کے بقول، یہ 25 فیصد ٹیرف بھارت کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے اور امریکی مطالبات ماننے پر مجبور کرنے کے لیے کافی ہوگا۔ بھارت نے اپنے ردِعمل میں کہا ہے کہ وہ ان اقدامات کے قانونی اور معاشی اثرات کا جائزہ لے رہا ہے۔

بھارتی جریدے ’انڈیا ٹودے‘  نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ بھارت اس وقت کسی جوابی کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتا اور مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنا چاہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے امریکا نے بھارت پر 25 فیصد ٹیرف جبکہ روس کیساتھ تعلقات پر بھاری جرمانہ عائد کردیا

واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کے بعد بھارت کی سرکاری آئل ریفائنریز نے روسی تیل کی خریداری روک دی تھی۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق بھارت تیل درآمد کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے جب کہ روس کے سمندری خام تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے 14 جولائی کو روس سے تیل خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد ٹیرف لگانے کی دھمکی دی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ بھارت امریکا تعلقات ڈونلڈ ٹرمپ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ بھارت امریکا تعلقات ڈونلڈ ٹرمپ امریکی وزیر روسی تیل کی ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر کی خریداری فیصد ٹیرف بھارت کا بھارت پر نے بھارت رہا ہے

پڑھیں:

انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت امریکی محکمۂ خزانہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ غیر قانونی امیگریشن کی معاونت کے لیے استعمال ہونے

والے بینک اکاؤنٹس بند کرے۔

ٹرمپ نے 2 جون کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ یہ حکم ان بینکوں، کریڈٹ کارڈ کمپنیوں اور دیگر مالیاتی اداروں کو ہدف بناتا ہے جن کے ذریعے مجرم

عناصر انسانی اسمگلنگ، منشیات کی تجارت، غیر قانونی امیگریشن اور منظم جرائم پیشہ گروہوں سے وابستہ رقوم منتقل کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری

صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ غیر قانونی تارکینِ وطن اور غیر ملکی دھوکے باز ہر سال امریکی ٹیکس دہندگان سے اربوں ڈالر لوٹ لیتے ہیں۔

ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق ایسے بینک اکاؤنٹس جو غیر قانونی امیگریشن کی معاونت کے لیے استعمال ہو رہے ہوں یا جن میں غیر دستاویزی تارکینِ وطن کو دی جانے والی سرکاری امداد رکھی جا

رہی ہو، انہیں بند، ضبط یا بحقِ سرکار تحویل میں لیا جا سکتا ہے۔

President Trump announced that he has signed a new Executive Order aimed at cracking down on financial fraud and illegal immigration.

The order directs the Treasury Department to restrict banks, credit cards, and financial institutions from being used to support human smuggling,… pic.twitter.com/01rOIAWCxI

— Open Source Intel (@Osint613) June 2, 2026

صدر ٹرمپ کے مطابق وہ بینک اکاؤنٹس جو غیر قانونی امیگریشن کو سہولت فراہم کرنے یا غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملنے والی فلاحی امداد محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، بند کر دیے جائیں گے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے مجرمانہ نیٹ ورکس کے ذریعے امریکا سے باہر جانے والے اربوں ڈالر کے بہاؤ کو روکا جا سکے گا۔

محکمۂ خزانہ کی کارروائیاں

وائٹ ہاؤس اور محکمۂ خزانہ کے مطابق جرائم پیشہ تنظیمیں امریکی مالیاتی نظام کو غیر قانونی رقوم منتقل کرنے اور چھپانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ نئے حکم نامے کا مقصد بینکنگ سطح پر

ان نیٹ ورکس کی رسائی ختم کرنا ہے۔

اسی تناظر میں مارچ 2026 میں محکمۂ خزانہ نے میکسیکو کے سینالوا کارٹیل سے وابستہ ایک منی لانڈرنگ نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

مزید پڑھیں: صدرٹرمپ کا ووٹرشناختی کارڈ لازمی قرار دینے کا فیصلہ، ایگزیکٹیو آرڈر جلد متوقع

حکام کا الزام تھا کہ منشیات فروش فینٹانائل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو پہلے کرپٹو کرنسی میں تبدیل کرتے اور پھر یہ رقوم کارٹیل کے آپریٹرز تک پہنچائی جاتیں۔

امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے مارچ 2026 میں کہا تھا کہ محکمۂ خزانہ دہشتگرد کارٹیلز اور ان کے فینٹانائل اسمگلنگ نیٹ ورکس کو نشانہ بناتا رہے گا۔

مسئلے کا حجم

امریکی حکام کے مطابق مسئلہ کافی وسیع ہے۔ محکمۂ خزانہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نشاندہی کی ہے کہ چینی منی لانڈرنگ نیٹ ورکس مبینہ طور پر 312 ارب ڈالر سے زائد رقوم

امریکی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کر چکے ہیں۔

حکام نے مالیاتی نظام کو مزدوروں کی اسمگلنگ سے بھی جوڑا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ٹرانس جینڈر بچوں کی جنس تبدیلی کے علاج پر پابندی لگا دی

اپریل 2025 میں امریکی ادارے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یعنی آئی سی ای نے ریاست اوہائیو میں ایک مبینہ 126 ملین ڈالر مالیت کے غیر قانونی افرادی قوت فراہم کرنے اور منی لانڈرنگ

آپریشن سے منسلک اثاثے ضبط کیے تھے۔

آئی سی ای کے مطابق اس نیٹ ورک نے تقریباً 40 فرضی کمپنیوں کے ذریعے غیر دستاویزی کارکنوں کو ملازمت اور رہائش فراہم کی، جن میں سے بہت سے افراد میکسیکو کے راستے امریکا

اسمگل کیے گئے تھے۔ حکام کے مطابق اس دوران لاکھوں ڈالر بینک اکاؤنٹس، جائیدادوں اور لگژری اشیا کے ذریعے منتقل کیے گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسمگلنگ نیٹ ورکس امیگریشن امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ایگزیکٹو آرڈر دہشتگرد ریاست اوہائیو صدر ٹرمپ فینٹانائل کریڈٹ کارڈ محکمہ خزانہ منی لانڈرنگ وائٹ ہاؤس

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار