ممبئی کے علاقے پَوائی میں جمعرات کے روز 17 بچوں کو یرغمال بنانے والے شخص روہت آریہ کی موت ہو گئی۔

پولیس کے مطابق آریہ ایک ایئر گن سے پولیس پر فائرنگ کر رہا تھا، جس کے بعد پولیس نے جوابی فائر کیا۔ گولی آریہ کے سینے کے دائیں جانب لگی، اور وہ علاج کے دوران دم توڑ گیا۔ اس کی پوسٹ مارٹم رپورٹ ممبئی کے جے جے اسپتال میں تیار کی جا رہی ہے۔

 RA اسٹوڈیو میں 2 گھنٹے کا ڈرامائی محاصرہ

یہ واقعہ RA اسٹوڈیوز نامی ایک چھوٹے فلم اسٹوڈیو میں پیش آیا، جہاں آریہ نے بچوں کو آڈیشن کے بہانے بلایا تھا۔
پولیس کے مطابق تمام 17 بچے، جن کی عمریں 8 سے 14 سال کے درمیان تھیں، تقریباً 2 گھنٹے یرغمال بنے رہے مگر بالآخر محفوظ طور پر بازیاب کر لیے گئے۔

یہ بھی پڑھیے ممبئی جارہے ہو تو مراٹھی بولنی پڑے گی، انڈیا میں دوران پرواز لسانی تنازع شدت اختیار کرگیا

پَوائی پولیس اسٹیشن کو 1:45 بجے دوپہر ہنگامی کال موصول ہوئی جس پر پولیس ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچی۔
ابتدائی طور پر مذاکرات کی کوشش کی گئی، مگر آریہ نے بچوں کو چھوڑنے سے انکار کر دیا اور انہیں نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دینے لگا۔
اس پر پولیس نے باتھ روم کے راستے سے زبردستی داخل ہو کر کارروائی کی اور تمام بچوں کو بحفاظت نکال لیا۔

یرغمال بنانے سے پہلے ویڈیو بیان جاری کیا

واقعے سے قبل آریہ نے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں اس نے کہا کہ وہ خودکشی کے بجائے یہ قدم اٹھا رہا ہے۔
ویڈیو میں وہ کہتا ہے:

’میں روہت آریہ ہوں۔ خودکشی کرنے کے بجائے میں نے منصوبہ بنایا ہے کہ چند بچوں کو یرغمال بناؤں۔ میرے کچھ سادہ، اخلاقی اور اصولی مطالبات ہیں۔ اگر تم نے کوئی غلط قدم اٹھایا تو میں اس جگہ کو آگ لگا دوں گا۔ میں پیسے نہیں مانگ رہا، میں دہشتگرد نہیں ہوں۔‘

اس نے مزید کہا کہ اگر وہ زندہ رہا تو خود یہ ’مشن‘ جاری رکھے گا، اور اگر مر گیا تو ’کوئی دوسرا یہ کام کرے گا۔‘

 پولیس کو ایئر گن اور کیمیکل کنٹینرز ملے

پولیس نے موقع سے ایک ایئر گن اور کچھ کیمیائی مواد کے ڈبے برآمد کیے ہیں، جنہیں آریہ نے پولیس کو دھمکانے کے لیے استعمال کیا تھا۔
تمام بچے RA اسٹوڈیوز میں ویب سیریز کے آڈیشن کے لیے بلائے گئے تھے، جو ایک رہائشی عمارت کی نچلی منزل پر واقع ہے۔

 ’ادائیگی نہ ملنے‘ کا شکوہ، بھوک ہڑتال بھی کی تھی

روہت آریہ نے ماضی میں الزام لگایا تھا کہ حکومت نے اس کے پی ایل سی سینیٹیشن مانیٹر پروجیکٹ کے تحت کیے گئے کام کی ادائیگی نہیں کی۔
یہ منصوبہ وزیرِاعلیٰ کے پروگرام ’میرا اسکول، خوبصورت اسکول‘کے تحت چلایا گیا تھا۔

آریہ کے مطابق، اس نے 2013 میں ‘لیٹس چینج’ کے نام سے ایک مہم شروع کی تھی تاکہ اسکول کے بچوں کو صفائی کے سفیر بنایا جا سکے۔
اس نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے اس کے لیے 2 کروڑ روپے کی منظوری دی تھی مگر جنوری 2024 سے کوئی ادائیگی نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیے یکطرفہ عشق کا انجام، طالب علم نے سابق اُستانی پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی

آریہ نے بتایا تھا کہ وہ 2 بار بھوک ہڑتال بھی کر چکا ہے اور سابق وزیرِ تعلیم دیپک کیسَرکر نے اسے ذاتی طور پر 7 لاکھ اور 8 لاکھ روپے کے 2 چیک دیے تھے، مگر مکمل رقم ادا نہیں کی گئی۔

 محکمہ تعلیم کی تردید

مہاراشٹر کے سیکرٹری تعلیم رنجیت سنگھ دیول نے وضاحت کی کہ حکومت پر آریہ کی کوئی رقم واجب الادا نہیں۔
ان کے مطابق:

’روہت آریہ نے یہ کام رضاکارانہ طور پر کیا تھا اور اسے اس پر ایک تعریفی سند دی گئی تھی۔ بعد ازاں وہ حکومت کے ساتھ ‘میرا اسکول، سندر اسکول’ پروگرام کے نفاذ پر بات چیت کر رہا تھا، مگر وہ معاہدہ طے نہیں پا سکا۔‘

 امن و امان کی بحالی کے لیے بڑا امتحان

یہ واقعہ ممبئی پولیس کے لیے ایک اہم چیلنج ثابت ہوا، تاہم پولیس کی فوری اور مؤثر کارروائی سے تمام 17 بچے بلا نقصان بازیاب ہو گئے۔
پولیس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے اور اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آریہ نے یہ انتہائی قدم کیوں اٹھایا؟

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟

اسلام آباد: معروف امریکی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا نے 2 سے 5 سال عمر کے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی ہے، جسے جدید ڈیزائن اور ہلکے وزن کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ ٹیسلا بچوں کی بیلنس بائیک مضبوط مگر ہلکے میگنیشیم فریم پر مشتمل ہے، جبکہ اس میں بچوں کی سہولت کے لیے ایڈجسٹ ہونے والی نشست بھی دی گئی ہے۔ بائیک کے سائیڈ پر ٹیسلا کا نام اور سامنے نمایاں T لوگو بھی موجود ہے۔

یہ بائیک روایتی سائیکل سے مختلف ہے کیونکہ اس میں نہ پیڈل موجود ہیں، نہ موٹر اور نہ ہی بریک۔ بچے اپنے پیروں کی مدد سے اسے چلاتے ہیں، جس سے ان میں توازن برقرار رکھنے اور سائیکل چلانے کی بنیادی مہارت پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے۔

کمپنی نے اس منفرد بائیک کی قیمت 225 امریکی ڈالر مقرر کی ہے، جو عام بیلنس بائیکس کے مقابلے میں زیادہ ہے، کیونکہ مارکیٹ میں ایسی بیشتر بائیکس تقریباً 100 ڈالر میں دستیاب ہوتی ہیں۔

قیمت نسبتاً زیادہ ہونے کے باوجود یہ بائیک فروخت کے آغاز کے فوراً بعد آؤٹ آف اسٹاک ہو گئی، جس سے صارفین کی غیر معمولی دلچسپی ظاہر ہوتی ہے۔

ٹیسلا کے مطابق نئی کھیپ کے لیے 31 جولائی سے پری آرڈر دوبارہ شروع کیے جائیں گے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ بائیک 2 سے 5 سال عمر کے بچوں کے لیے موزوں ہے۔ اس کے استعمال کے لیے بچے کی ٹانگ کی کم از کم لمبائی 13.7 انچ (35 سینٹی میٹر) ہونی چاہیے، جبکہ تجویز کردہ زیادہ سے زیادہ وزن 30 کلوگرام اور قابل برداشت زیادہ سے زیادہ وزن 35 کلوگرام رکھا گیا ہے۔

ٹیسلا نے یہ بھی بتایا کہ بائیک کی اسمبلنگ کے لیے درکار تمام ضروری اوزار پیکج میں شامل ہوں گے، جبکہ صارفین کو مکمل ہدایات پر مشتمل استعمال کا کتابچہ بھی فراہم کیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق بچوں کی مصنوعات کی مارکیٹ میں ٹیسلا کی یہ نئی پیشکش کمپنی کی برانڈ توسیع کی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے وہ گاڑیوں کے علاوہ دیگر صارفین کی مصنوعات میں بھی اپنی موجودگی مضبوط بنا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
  • کراچی کے 2 اسٹریٹ کرمنلز مردان میں پولیس مقابلے میں ہلاک
  • مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا