صدر مملکت کا ڈیجیٹل ہراسانی کیس میں سٹیٹ لائف کے اسسٹنٹ منیجر کو 10لاکھ روپے ہرجانہ اورجبری ریٹائرمنٹ کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ہراسانی کے خلاف اہم قدم اٹھاتے ہوئے صدرِ مملکت نے خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسانی سے بچانے کے قانون (2010) کے تحت وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی (فوسپاہ) کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہراسانی کے جرم میں برطرفی، سی ای او کے الیکٹرک مونس علوی کا بیان بھی سامنے آگیا
یہ کیس اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان میں ایک اعلیٰ عہدیدار کے خلاف تھا۔ جمعرات کو وفاقی محتسب سیکریٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق شکایت کنندہ عروج واحد نے شکایت درج کرائی تھی کہ اسٹیٹ لائف کے اسسٹنٹ جنرل منیجر کامران چنہ نے انہیں واٹس ایپ اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع سے نازیبا اور نامناسب پیغامات بھیجے جن میں جنسی نوعیت کے جملے شامل تھے۔
کامران چنہ نے پیغامات بھیجنے کا اعتراف تو کیا لیکن فوسپاہ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا جس میں انہیں نوکری سے برطرف کرنے اور 3 لاکھ روپے جرمانہ عائد کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
انہوں نے صدر پاکستان کے پاس اپیل دائر کی۔صدر کے سامنے پیشی کے دوران کامران چنہ نے بغیر کسی مزید وضاحت کے نہ صرف عروج واحد بلکہ ان کی والدہ سے بھی غیر مشروط معافی مانگی۔
مزید پڑھیے: پنجاب اسمبلی میں خاتون ایم پی اے کے ساتھ ہراسانی کا معاملہ کیسے ہوا؟
فریقین کو سننے کے بعد صدر نے ہراسانی کے الزامات کو درست قرار دیا مگر کامران چنہ کی 29 سالہ بے داغ سروس کو دیکھتے ہوئے انہیں برطرف کرنے کی سزا کو جبری ریٹائرمنٹ میں تبدیل کر دیا تاہم صدرِ پاکستان نے متاثرہ خاتون کے ساتھ ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُن کے لیے ہرجانے کی رقم 3 لاکھ سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کر دی کیونکہ عروج واحد کو اس ہراسانی کے باعث ذہنی دباؤ اور مجبوری میں نوکری چھوڑنی پڑی تھی۔
مزید پڑھیں: طالبہ کی طرف سے ہراسانی کی شکایت پر اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کا اسسٹنٹ پروفیسر برطرف
صدر پاکستان نے اسٹیٹ لائف کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ عروج واحد کو دوبارہ نوکری پر رکھا جائے کیونکہ ان کا استعفیٰ رضاکارانہ نہیں تھا بلکہ اُس ماحول کا نتیجہ تھا جو ہراسانی کے باعث پیدا ہوا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹیٹ لائف افسر برطرف صدر مملکت آصف علی زرداری ہراسانی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیٹ لائف افسر برطرف صدر مملکت ا صف علی زرداری ہراسانی کے اسٹیٹ لائف کامران چنہ عروج واحد
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔