پاکستان امت مسلمہ کی واحد امید ہے، اسپیکر قومی اسمبلی
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے تعلقات میں نئے باب کا آغاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بصیرت اور قیادت پر فخر کرتی ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے اپنے بیان میں دونوں ممالک کے سربراہان اور عوام کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام خادم حرمین الشریفین کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور مقامات مقدسہ کے تحفظ اور سعودی عرب کی سلامتی میں کردار ادا کرنا پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کے لیے ایک مخلص دوست اور بھائی کا کردار ادا کیا ہے اور حالیہ دفاعی معاہدہ اس دوستی کو مزید مستحکم کرنے کی نشانی ہے۔ اسپیکر نے زور دیا کہ پاکستان اور سعودی عرب اسلام اور امن کی مشترکہ طاقت ہیں اور ان کا اتحاد ناقابلِ شکست ہے، جو ان شاء اللہ ہمیشہ قائم رہے گا۔
سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ اعتماد اور بھائی چارے کی نئی بنیاد رکھی ہے، جو دونوں ممالک کی عوام کے مستقبل کے لیے خوش آئند ثابت ہوگی۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ نہ صرف پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنائے گا بلکہ خطے میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے بھی ایک تاریخی اقدام ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پوری پاکستانی قوم اس دفاعی معاہدے پر فخر کرتی ہے اور پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشیں قابلِ ستائش ہیں۔ اسپیکر نے کہا کہ امتِ مسلمہ کی واحد امید پاکستان ہے اور یہ ملک ہر قیمت پر امت مسلمہ کا دفاع اور تحفظ یقینی بنائے گا۔
اپنے بیان کے اختتام پر اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں دونوں ممالک ترقی اور خوشحالی کی نئی منازل طے کریں گے۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسپیکر قومی اسمبلی دونوں ممالک پاکستان کے اور سعودی نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔