ملک بھر میں بجلی سستی، نیپرا نے فی یونٹ 1.78 روپے کمی کا اعلان کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
— نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کے صارفین کے لیے خوشخبری سناتے ہوئے فی یونٹ نرخ میں 1 روپے 78 پیسے کمی کا اعلان کر دیا ہے، جس کا اطلاق کراچی سمیت پورے ملک میں ہوگا۔
نیپرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی کی قیمت میں یہ کمی ماہانہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (FCA) کی مد میں کی گئی ہے، جو کہ جولائی کے مہینے کے لیے لاگو ہوگی۔
ریگولیٹری اتھارٹی نے وضاحت کی کہ اس فیصلے سے صارفین کو صرف ایک ماہ کے لیے ریلیف دیا جا رہا ہے، جس کا فائدہ انہیں ستمبر کے بجلی کے بلوں میں ملے گا۔
مزید یہ کہ اس کمی سے کراچی کے صارفین بھی مستفید ہوں گے، جو اکثر قیمتوں میں فرق کی شکایات کرتے نظر آتے ہیں۔
یاد رہے کہ فیول ایڈجسٹمنٹ وہ طریقہ کار ہے جس کے تحت بجلی بنانے کے لیے استعمال ہونے والے ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بجلی کے نرخ ماہانہ بنیادوں پر کم یا زیادہ کیے جاتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔