اسلامو فوبیا کے خلاف اجتماعی اقدام ناگزیر ہے، اسحٰق ڈار کا سلامتی کونسل میں دوٹوک مؤقف
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
نیویارک:
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور اقوام متحدہ کے درمیان تعاون کے موضوع پر ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلاموفوبیا عالمی سطح پر بڑھتا ہوا خطرہ ہے، جس کے سدباب کے لیے دنیا کو مشترکہ حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔
اسحٰق ڈار نے کہا کہ اسلاموفوبیا کے خلاف اجتماعی اقدام ناگزیر ہے اور عالمی برادری کو اس حساس مسئلے پر عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کو ان کا بنیادی حق حقِ خودارادیت دیا جائے، جس کا وعدہ خود اقوام متحدہ کی قراردادوں میں موجود ہے۔
نائب وزیراعظم نے اجلاس کی صدارت کو پاکستان کے لیے اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ او آئی سی اور اقوام متحدہ کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون انسانیت کو درپیش بحرانوں سے نمٹنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ او آئی سی نے نہ صرف مقبوضہ کشمیر، بلکہ لیبیا، شام، افغانستان اور یمن سمیت دیگر شورش زدہ علاقوں میں قیام امن کے لیے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
اسحٰق ڈار نے کہا کہ پاکستان اس بات پر مکمل یقین رکھتا ہے کہ او آئی سی کا اقوام متحدہ کے ساتھ تعلق مزید مضبوط اور بامعنی ہونا چاہیے۔
یاد رہے کہ دو روز قبل سلامتی کونسل نے پاکستان کی پیش کردہ قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر لیا، جس میں رکن ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ بین الاقوامی تنازعات کو پُرامن ذرائع جیسے مذاکرات، ثالثی یا عدالتی فیصلے سے حل کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ اسح ق ڈار
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔