عارف علوی، گنڈاپور سمیت پی ٹی آئی کے 50 رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
اسلام آباد:
انسداد دہشتگردی عدالت نے سابق صدر عارف علوی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سمیت پی ٹی آئی کے 50 رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔
26 نومبر احتجاج کے سلسلے میں تھانہ کراچی کمپنی میں درج مقدمے کی سماعت کے بعد پی ٹی آئی کے 41 رہنماؤں کے وارنٹ گرفتار ی عدالت نے آج جاری کیے جب کہ 9 پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری پہلے ہی جاری ہو چکے ہیں، اس طرح مجموعی طور پر 50 پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو گئے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹ تھانہ کراچی کمپنی میں درج مقدمہ نمبر 1193 میں جاری کیے گئے، ان ملزمان میں عارف علوی، عبدالقیوم نیازی، شبلی فراز، فیصل جاوید، سلمان اکرم راجا، روف حسن، مراد سعید، احمد نیازی بھی شامل ہیں۔
علاوہ ازیں وزیراعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈاپور، اسد قیصر، حماد اظہر، عاطف خان ، شعیب شاہین، اعظم خان سواتی، عمر ایوب، صاحبزاہ حامد رضا، علیمہ خانم، شیخ وقاص اکرم، کنول شوزب، شاندانہ گلزار، شیرافضل مروت کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے گئے ہیں۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ملزمان کے پیش نہ ہونے پر وارنٹ جاری جاری کیے۔ عدالت نے ملزمان کو فوری گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
واضح رہے کہ راولپنڈی ڈویژن میں 24 اور 26 نومبر کے 32 مقدمات درج ہیں، جس میں بشریٰ بی بی تھانہ ٹیکسلا میں 26 نومبر کانسٹیبل قتل کیس میں بھی نامزد ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری پی ٹی آئی
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔