سابق وفاقی وزیر مخدوم تنویر گیلانی ملتان میں سپردخاک، ہزاروں افراد کی جنازے میں شرکت
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
نماز جنازہ کے بعد مخدوم سید تنویر الحسن گیلانی کو درود و سلام اور کلمہ طیبہ کے ورد میں دربار حضرت موسی پاک شہید کے احاطہ میں سپرد خاک کیا گیا، مرحوم کے ایصال ثواب کے لئے قل خوانی و جہلم کا اجتماع 7 ستمبر کو دربار حضرت موسی پاک شہید پر ہوگا جبکہ فاتحہ خوانی کے لئے سوگواران سید عمران گیلانی کی رہائش گاہ العمران عقب ڈسٹرکٹ جیل میں موجود ہوںگے۔ اسلام ٹائمز۔ سابق وفاقی وزیر صدر انجمن اسلامیہ مخدوم سید تنویر الحسن گیلانی مرحوم کی نماز جنازہ نشتر گرانڈ میں ادا کی گئی، جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی، نماز جنازہ مرحوم کے چھوٹے صاحبزادے مخدوم زادہ سید عمران گیلانی نے پڑھائی جبکہ چیئرمین سینٹ سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی، سینیئر سیاستدان مخدوم محمد جاوید ہاشمی، مرحوم کے بڑے صاحبزادے مخدوم زادہ سید عامر حسن گیلانی، درگاہ حضرت موسی پاک شہید کے سجادہ نشین مخدوم سید ابو الحسن گیلانی، مخدوم آف اُچ مخدوم سہیل گیلانی، امیر جماعت اہل سنت پاکستان علامہ مظہر سعید کاظمی، مخدوم سید غلام یزدانی گیلانی، مخدوم راجن بخش گیلانی، علامہ سید حامد سعید کاظمی، درگاہ حضرت پیر طریقت مولانا حامد علی خان کے سجادہ نشین صاحبزادہ ناصر میاں خان، درگاہ حضرت چادر والی سرکار کے سجادہ نشین پیر سید علی حسین شاہ، پیر آف گولڑہ شریف پیر فواد الدین گیلانی، میاں شمس الدین گیلانی، نواب صلاح الدین جیلانی، ارکان قومی اسمبلی ملک عامر ڈوگر، سید علی موسی گیلانی، سید علی قاسم گیلانی، ایم پی اے سید علی حیدر گیلانی، سید محسن گیلانی، چوہدری وحید، ملک عاشق علی شجر، حافظ اقبال خاکوانی، اظہر بلوچ، مخدوم فیض مصطفی قریشی، علامہ محمد فاروق خان سعیدی، ظفر قادری ایڈوکیٹ، ملک یوسف سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ نماز جنازہ کے بعد مخدوم سید تنویر الحسن گیلانی کو درود و سلام اور کلمہ طیبہ کے ورد میں دربار حضرت موسی پاک شہید کے احاطہ میں سپرد خاک کیا گیا، مرحوم کے ایصال ثواب کے لئے قل خوانی و جہلم کا اجتماع 7 ستمبر کو دربار حضرت موسی پاک شہید پر ہوگا جبکہ فاتحہ خوانی کے لئے سوگواران سید عمران گیلانی کی رہائش گاہ العمران عقب ڈسٹرکٹ جیل میں موجود ہوںگے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔