کیا کرکٹر اعظم خان نے اپنا وزن کم کرلیا؟ شاداب خان نے پول کھول دیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
قومی کرکٹر اعظم خان جو اکثر اپنے وزن کی وجہ سے خبروں میں رہتے ہیں گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ان کی چند تصاویر گردش کر رہی تھیں جس میں انہیں انتہائی فٹ دکھایا گیا تھا اور دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہوں نے صرف 2 ماہ میں 69 کلو وزن کم کیا ہے۔
اب پاکستانی ٹیم کے معروف آل راؤنڈر شاداب خان نے اعظم خان کے وزن کم کرنے کا پول کھول دیا ہے۔ انہوں نے سماجی رابطوں کی سائیٹ ایکس پر ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے جس میں انہوں نے اعظم خان کو دیکھتے ہی کہا کہ ’یہ تصویر والا شخص ہی ہے جو آج کل مشہور ہو رہا ہے‘۔
شاداب خان نے کیپشن میں لکھا کہ اعظم خان سے ملاقات ہوئی، وہ بہت خوشدلی سے میرے ساتھ سیلفی لینے کے لیے رضامند ہو گئے۔
Ran into Azam Khan, he was kind enough to agree to take a selfie with me pic.
— Shadab Khan (@76Shadabkhan) July 24, 2025
صارفین شاداب خان کی ویڈیو اور اعظم خان کے وزن پر مختلف تبصرے کرتے نظر آئے، ایک صارف نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ میں کرکٹر کی تصویر دیکھ کر واک کر کر کے تھک گیا ہوں کہ اگر اعظم خان اتنا وزن کم کر سکتا ہے تو میں کیوں نہیں۔ جبکہ کئی صارفین نے کہا کہ جتنا وزن انہوں نے کم کیا تھا اتنا ہی واپس آ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اعظم خان کو 3 ماہ میں فٹ کرسکتا ہوں، قومی ریسلر انعام بٹ کا دعویٰ
واضح رہے کہ اعظم خان قومی کرکٹ ٹیم کا حصہ ہیں، تاہم وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ اکثر اچھا کھیل نہیں پیش کرپاتے جس کی وجہ سے انہیں تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
گزشتہ برس قومی ریسلر رستم پاکستان انعام بٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ صرف 3 ماہ میں قومی کرکٹر اعظم خان کو فٹ کرسکتے ہیں اس کے لیے ان کو 3 ماہ گوجرانوالہ کے اکھاڑے میں ٹریننگ کرنا ہوگی اور مکمل فٹ ہوجائیں گے۔ اور اس دوران ان کی خوراک کا بھی خیال رکھا جائے گا تاکہ طاقت میں کمی نہ آئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اعظم خان اعظم خان وزن پاکستان کرکٹ ٹیم شاداب خان
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان کرکٹ ٹیم انہوں نے
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ