WE News:
2026-07-24@13:46:03 GMT

کوئٹہ میں شدید گرمی کی لہر، سوئمنگ پولز کی مانگ میں اضافہ

اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT

 بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں رواں سال گرمی کی شدت میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ گرمی کے باعث شہریوں کی بڑی تعداد نے ٹھنڈک کے متبادل ذرائع تلاش کرنا شروع کر دیے ہیں جن میں سب سے زیادہ مقبولیت سوئمنگ پولز کو حاصل ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نوکری چھوڑی، ہنر اپنایا: کوئٹہ کی سابق ٹیچر کا کلے آرٹ اور کامیاب آن لائن بزنس

شہر میں نہ صرف پہلے سے موجود سوئمنگ پولز میں رش بڑھ گیا ہے بلکہ درجنوں نئے سوئمنگ پولز بھی تعمیر کیے جا رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق رواں سال گرمی کی شدت معمول سے کہیں زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو نہ صرف راحت کی ضرورت ہے بلکہ انہیں محفوظ تفریحی مقامات کی تلاش بھی ہے۔ ایسے میں سوئمنگ پولز نہ صرف گرمی سے نجات کا ذریعہ بنے ہیں بلکہ نوجوانوں کے لیے ایک پرکشش تفریح بھی فراہم کر رہے ہیں۔

مقامی کاروباری طبقہ بھی اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف علاقوں میں نئے سوئمنگ پولز قائم کر رہا ہے۔ کئی افراد نے گھریلو سطح پر چھوٹے پولز تعمیر کیے ہیں جنہیں کرائے پر دیا جا رہا ہے جبکہ بعض نے باقاعدہ کمرشل پولز کے ساتھ کیفے، ریسٹ ایریاز اور فیملی زونز بھی قائم کر دیے ہیں۔

مزید پڑھیے: مارشل آرٹ میں پاکستان کا نام روشن کرنے والی کوئٹہ کی باہمت خواتین

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ان پولز کے معیار، صفائی اور حفاظتی اقدامات پر نظر رکھے تو یہ تفریحی سہولیات نہ صرف عوام کو سکون فراہم کریں گی بلکہ مقامی معیشت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوں گی۔ دیکھیے یہ ویڈیو رپورٹ۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بلوچستان کوئٹہ کوئٹہ کے سوئمنگ پول کوئٹہ میں شدید گرمی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچستان کوئٹہ کوئٹہ میں شدید گرمی

پڑھیں:

ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جولائی2026ء) ماہرینِ صحت نے دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عادت نہ صرف متوازن غذا کی جانب اہم قدم ہے بلکہ بھوک پر قابو پانے، توانائی برقرار رکھنے اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مقصد صرف تیزی سے وزن کم کرنا نہیں بلکہ ایسی پائیدار غذائی عادات اپنانا ہے جن پر طویل عرصے تک آسانی سے عمل کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ دوپہر کے کھانے میں متوازن سلاد شامل کرنے سے جسم کو فائبر، وٹامنز، منرلز اور دیگر ضروری غذائی اجزا بیک وقت حاصل ہوتے ہیں، جو بہتر صحت کے لیے نہایت اہم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک مکمل اور متوازن سلاد صرف سبز پتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں ثابت مونگ دال، چنے، کھیرا، ٹماٹر، پیاز، گاجر، شملہ مرچ، کینوا، ایووکاڈو، مالٹے کے قتلے، انار کے دانے اور کچے آم جیسے غذائیت سے بھرپور اجزا بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

ذائقے کے لیے نمک، کالی مرچ، لیموں کا رس یا سرکہ استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ پروٹین کی ضرورت پوری کرنے کے لیے گرل کیا ہوا پنیر، سویا یا دیگر صحت بخش پروٹین ذرائع شامل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ماہرین نے کہا کہ اگر ایک ہی قسم کا سلاد روزانہ کھایا جائے تو وقت کے ساتھ اکتاہٹ پیدا ہو سکتی ہے، اس لیے مختلف سبزیوں، پھلوں اور دیگر اجزا میں تبدیلی کرتے رہنا چاہیے تاکہ ذائقے کے ساتھ غذائی تنوع بھی برقرار رہے۔

طبی ماہرین کے مطابق دوپہر کے کھانے میں سلاد شامل کرنے سے زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس رہتا ہے، غیر ضروری اسنیکس اور بار بار کھانے کی خواہش میں کمی آتی ہے، جبکہ دوپہر کے کھانے کے بعد محسوس ہونے والی سستی بھی کم ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں روزمرہ سرگرمیوں کے لیے جسمانی توانائی اور چستی برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وزن میں کمی کا عمل ہر فرد میں مختلف ہو سکتا ہے، تاہم متوازن غذا کو مستقل معمول بنانے سے جسمانی ساخت میں مثبت تبدیلیاں آ سکتی ہیں، کپڑوں کی فٹنگ بہتر محسوس ہو سکتی ہے اور مجموعی صحت میں بتدریج بہتری آتی ہے۔

ماہرین نے کہا کہ صحت بخش غذائی عادات نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں اور انسان کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہیں۔ ان کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مطلب پسندیدہ کھانوں سے مکمل پرہیز نہیں بلکہ اعتدال، توازن اور مستقل مزاجی کے ساتھ غذائیت سے بھرپور خوراک کو روزمرہ معمول کا حصہ بنانا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار