اسلام آباد(نیوز ڈیسک) اگر آپ روشن مستقبل کیلیے ناروے جیسے ملک میں تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس معلوماتی تحریر میں آپ کو اسٹوڈنٹ ویزا کیلیے اپلائی کرنے کا آسان طریقہ سمجھایا جا رہا ہے۔

ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں بی آئی نارویجن بزنس اسکول کو ملک کا سب سے بڑا بزنس اسکول سمجھا جاتا ہے۔ یہ ماسٹر ڈگریوں کی ایک رینج پیش کرتا ہے جبکہ اس کا ایگزیکٹو MBA پروگرام (جو چین میں فوڈان یونیورسٹی اسکول آف مینجمنٹ کے ساتھ مشترکہ طور پر منعقد ہوتا ہے) کو فنانشل ٹائمز کے سرفہرست EMBA پروگراموں میں شمار کیا جاتا ہے۔
اگر آپ نارویجن یونیورسٹی میں اپنی جگہ کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں تو آپ کو اسٹوڈنٹ ویزا کی ضرورت ہوگی جب تک کہ آپ آئس لینڈ، ڈنمارک، سویڈن یا فن لینڈ کے طالب علم نہ ہوں۔

اس تحریر میں اسٹوڈنٹ ویزا کیلیے مطلوبہ دستاویزات سے لے کر درخواست کی لاگت تک کی تفصیلات بتائی جا رہی ہیں۔ معلوماتی تحریر کو آخر تک پڑھ کر طریقہ سمجھیں۔

اگر آپ ناروے میں پڑھنا چاہتے ہیں تو آپ کو اسٹوڈنٹ ویزا یا اسٹڈی پرمٹ کی ضرورت ہوگی۔ اس کیلیے درج ذیل چیزوں کی ضرورت ہے:

یونیورسٹی میں داخلہ

آپ کو ناروے کی کسی یونیورسٹی یا کالج میں داخلہ لینا ہوگا، داخلہ کنفرم ہونے کے بعد آپ کو ایک ایڈمیشن لیٹر ملے گا جو ویزا کیلیے ضروری ہے۔

مالی ثبوت

آپ کو ثابت کرنا ہوگا کہ آپ کے پاس پڑھائی اور رہائش کے اخراجات کیلیے کافی رقم ہیں۔ عام طور پر یہ رقم ہر سال کیلیے تقریباً 130,000 نارویجن کرونر (تقریباً 25 لاکھ پاکستانی روپے) ہونی چاہیے۔ یہ پیسے آپ کے بینک اکاؤنٹ میں ہونے چاہئیں یا کسی اسکالرشپ کے ذریعے ثابت کرنے چاہئیں۔

ہیلتھ انشورنس

آپ کے پاس صحت کی انشورنس ہونی چاہیے جو ناروے میں آپ کے قیام کے دوران میڈیکل اخراجات کو کور کرے۔

رہائش کا ثبوت

آپ کو ثابت کرنا ہوگا کہ آپ کے پاس ناروے میں رہنے کیلیے جگہ ہے جیسے کہ ہوسٹل یا کرائے کا گھر۔

پاسپورٹ

آپ کا پاسپورٹ کم از کم ایک سال کیلیے کارآمد ہونا چاہیے۔

درخواست فارم

آپ کو ناروے کی امیگریشن ویب سائٹ (UDI) پر جا کر آن لائن درخواست دینا ہوگی۔ اس کے ساتھ کچھ فیس بھی ادا کرنا پڑتی ہے (عام طور پر 5,000 سے 6,000 نارویجن کرونر)۔

تعلیمی دستاویزات

آپ کو اپنی پچھلی ڈگریاں، سرٹیفکیٹس اور ٹرانسکرپٹس جمع کروانے ہوں گے۔

زبان کی مہارت

کچھ کورسز کیلیے انگریزی یا نارویجن زبان کی مہارت جیسے IELTS یا TOEFL کا ثبوت دینا ہوگا۔

اگر آپ پاکستانی ہیں تو آپ کو ویزا کیلیے ناروے کے سفارت خانے یا VFS گلوبل کے ذریعے اپلائی کرنا ہوگا۔ درخواست دینے سے پہلے تمام دستاویزات مکمل اور درست ہونی چاہئیں۔

نوٹ

یہ معلومات عمومی ہیں لہٰذا درست اور تازہ ترین معلومات کیلیے ناروے کی امیگریشن ویب سائٹ (www.

udi.no) یا ناروے کے سفارت خانے سے رابطہ کریں۔

Post Views: 5

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اسٹوڈنٹ ویزا ویزا کیلیے ویزا کی اگر آپ ہیں تو

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن