پاکستان اور بھارت کی سرحدوں پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں جو روز بروز گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ جغرافیائی سرحدوں کے علاوہ یہ جنگ میڈیا کی سرحدوں پر بھی جاری ہے۔ ویسے تو اب کہا جاتا ہے کہ میڈیا کی کوئی سرحدیں نہیں ہیں۔ میڈیا ایک گلوبل ویلج بن گیا ہے لہٰذا خبر کو روکنا عملی طور پر ناممکن ہو گیا ہے۔ میڈیا کی سرحدیں ختم ہو گئی ہیں، ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارم آگئے ہیں جہاں سرحدوں اور قومیت کی تقسیم ختم ہو گئی ہے۔
لیکن حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بھارت نے میڈیا کی جنگ میں ہار تسلیم کر لی ہے۔ پہلگام کے واقعہ کے فوری بعد سوشل میڈیا کی جنگ میں پاکستان نے بھارت کو واضح شکست دی۔
سوشل میڈیا ٹرینڈز میں پاکستان کی واضح برتری نظر آئی۔ بے شک بھارت ایک بڑا ملک ہے۔ اس کے سوشل میڈیا صارفین کی تعداد بھی پاکستان سے بہت زیادہ ہے لیکن پھر بھی پاکستان کو واضح برتری رہی۔ بھارت کو اس برتری کی تکلیف محسوس ہوئی۔ بھارت کے ٹی وی شوز نے بے شک بہت پراپیگنڈا کیا لیکن سوشل میڈیا پر بھارت کو شکست ہوئی۔
اسی شکست کی وجہ سے بھارت نے پاکستانی صحافیوں کے یو ٹیوب چینل بھارت میں بند کروائے۔ یہ یوٹیوب چینل بھارت کے عوام کو پاکستان کا موقف پہنچا رہے تھے۔ اس جنگی ماحول میں بھارت کے عوام اپنے صحافیوں کے بجائے پاکستانی صحافیوں کے یوٹیوب چینل دیکھ رہے تھے۔ وہ پاکستان کا موقف جاننا چاہتے تھے، وہ پاکستان کی رائے کو معتبر سمجھ رہے تھے۔جب بھارت کی مودی حکومت نے دیکھا کہ پاکستانی صحافی بھارت میں ان کے پراپیگنڈے کو ناکام کر رہے ہیں، لوگ دوسری طرف کے موقف کو وزن دے رہے ہیں تو بھارت نے پاکستان کے بڑے صحافیوں کے یوٹیوب چینل بند کر دیے۔
یہ چینل اب پوری دنیا میں دیکھے جا سکتے ہیں لیکن بھارت کے لوگ ان کو نہیں دیکھ سکتے۔ حالانکہ ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ بھارتی عوام نے پاکستانی صحافیوں اور پاکستان کا موقف سننے کے لیے وی پی این کا سہارا لینا بھی شروع کر دیا ہے۔ لیکن بھارتی حکومت نے عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مجبور کیا کہ پاکستانی صحافیوں کے چینل بھارتی شہری نہ دیکھ سکیں۔ یہ سنسر شپ ہے۔
ویسے تو بھارت کا دعویٰ ہے کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے وہاں میڈیا کی مکمل آزادی ہے۔ لیکن پاکستانی صحافیوں پر سنسر شپ بھارتی جمہوریت کے چہرے کو داغدار کر رہی ہے۔ جواب میں پاکستان نے ایسی کوئی پابندی نہیں لگائی۔ لوگ پاکستان میں جس بھی بھارتی صحافی کو سننا چاہیں سوشل میڈیا پر دیکھ سکتے ہیں۔
بات یہیں ختم نہیں ہوئی۔اس کے بعد پاکستانی فنکاروں اور گلوکاروں کے بھی سوشل میڈیا ہینڈلرز کو بھارت میں بند کیا گیا۔ یہ بھی ایک طرح سے شکست تسلیم کی گئی کیونکہ یہ فنکار یقیناً پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے۔ بھارت نے عملی طور پر آج کے اس جدید دور میں اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ بھارت کے عوام پاکستان اور پاکستانیوں کا موقف نہ سن سکیں اور نہ جان ہی سکیں۔ میری رائے میں میڈیا اور بالخصوص سوشل میڈیا کے محاذ پر یہ بھارت کی بڑی شکست نظر آئی ہے۔ بھارت کا بوکھلایا ہوا چہرہ نظر آیا ہے۔
یہ درست ہے کہ ہمارے کچھ صحافی جو موجودہ حکومت اور اداروں کے خلاف ہیں۔ انھوں نے اس موقع پر بھی اپنی مخالفانہ مہم جاری رکھی۔ حالانکہ جنگ کے موقع پر تو اندرونی اختلافات ختم کر دیے جاتے ہیں۔ پاکستان میں عمومی طور پر سب حکومت اور فوج کے ساتھ کھڑے نظر آئے ہیں۔ تحریک انصاف نے بھی سینیٹ میں تمام سیاسی اختلافات کو بالا ئے طاق رکھتے ہوئے قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں باہمی اختلافات بھلا کر اس وقت بھارت کے خلاف اکٹھی ہیں۔ قومی اتفاق رائے اور قومی یکجہتی نظر آرہی ہے۔ لیکن چند لوگ بھارت کے ساتھ کھڑے بھی نظر آئے ہیں۔
مجھے کوئی بھی بھارتی صحافی پاکستانی میڈیا پر نظر نہیں آیا ہے۔ ورنہ اس سے پہلے جب بھی کوئی ایونٹ ہوتا تو بھارتی صحافی پاکستانی میڈیا میں نظر آتے تھے، وہ بھارت کا موقف پیش کرتے تھے۔ لیکن اس بار بھارتی صحافیوں کو ان کی حکومت کی جانب سے سخت ہدایات تھیں کہ انھوں نے پاکستانی میڈیا پر نہیں جانا۔ وہ بھارت کا موقف دینے بھی نہیں آرہے تھے۔ دوسری طرف بھارتی میڈیا کے پاس ایسے لوگوں کی لسٹ تھی جو پاکستانی تو ہیں لیکن پاکستان کے مخالف ہیں، ان کو بھارتی میٖڈیا میں بلایا گیا ہے اور ان سے پاکستان کے خلاف بات کروائی گئی ہے۔
مجھے ان لوگوں پر افسوس ہے کہ انھوں نے اس موقع پر پاکستان کی مخالفت کی ہے۔ ان کے اختلافات اپنی جگہ لیکن وہ ایسے موقع پر پاکستان کی مخالفت کریں یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام رابطے بند ہو گئے ہیں، بارڈر بند ہو گئے ہیں، فضائی حدود بند ہو گئی ہیں، ویزے بند ہو گئے ہیں، ٹریڈ بند ہو گئی ہے۔کرکٹ اور باقی کھیل تو پہلے ہی بند ہیں۔ کرکٹ کی بھارت کی ہٹ دھرمی پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکی ہے۔ اسی طرح باقی کھیلوں پر بھی بھارت کا رویہ دنیا کے سامنے ہے۔ کھلاڑیوں نے بھی بھارتی پالیسیوں کی مذمت کی ہے۔ ایک دوسرے کے سفارتکاروں کو ملک بدر کیا جا رہا ہے۔ جنگوں میں بھی ہم نے میڈیا کو جاری دیکھا ہے لیکن بھارت نے میڈیا کو بھی بند کیا ہے۔
کیا اس کے بعد پاکستانی صحافیوں، دانشوروں اور سیاستدانوں کو بھارتی میڈیا کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے۔ جب وہ رابطہ کریں تو ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ پہلے پاکستانی صحافیوں سے پابندیاں ہٹائی جائیں تب آپ سے بات ہوگی۔ جن لوگوں نے بھارتی میڈیا پر جا کر پاکستان کے خلاف بات کی ہے ان کے بھی بائیکاٹ کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے عوام کو ان کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ میں یہاں نام نہیں لکھنا چاہتا۔ لیکن کسی مشترکہ پلیٹ فارم پر ان کی نشاندہی ہونی چاہیے۔
تا کہ ان کا کردار بھی قوم کے سامنے آسکے۔ کیا اس بائیکاٹ کو بھارت کو کوئی فائدہ ہوگا۔ مجھے نہیں لگتا کہ میڈیا کے حو الے سے بھارت نے جو غیر جمہوری پالیسی بنائی ہے اس کا بھارت کو کوئی خاص فائدہ ہوگا۔ اس کو عالمی سطح پر کوئی پذیرائی بھی نہیں ملے گی۔ یہ درست ہے کہ جیسے کرکٹ کو بھارت نے یرغمال بنایا ہوا ہے۔
ایسے ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی بھارت کے سامنے بے بس نظر آئے ہیں۔ انھوں نے بھارتی حکومت کی سنسر شپ قبول کر کے ثابت کیا ہے کہ وہ بھارت کی ڈکٹیشن لینے پر مجبور ہیں۔ بھارتی تسلط وہاں نظر آیا ہے۔ پاکستان میں جو لوگ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر حکومتی پابندیوں پر شور مچاتے ہیں، کیا وہ اب بھارت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں یا بھارت کے سامنے وہ خاموش ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستانی صحافیوں پاکستانی صحافی بھارتی صحافی سوشل میڈیا پاکستان کی پاکستان کے نے پاکستان صحافیوں کے بھی بھارت بھارت کے بھارت کو کے سامنے بھارت کی میڈیا کی بھارت کا بھارت نے انھوں نے میڈیا پر کو بھارت کا موقف رہے ہیں گئے ہیں کے خلاف رہے تھے کے عوام بند ہو ہو گئی ئے ہیں
پڑھیں:
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔