پاک بھارت کشیدگی: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کو ٹیلی فون
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے آج یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور و سلامتی پالیسی اور نائب صدر کاجا کالس کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
محمد اسحاق ڈار نے کاجا کالس کو خطے میں ہونے والی حالیہ پیش رفت سے آگاہ کیا۔ دوران گفتگو انہوں نے بھارت کے بے بنیاد الزامات اور اشتعال انگیز پروپیگنڈے کو واضح طور پر مسترد کیا۔
نائب وزیراعظم نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے بھارتی فیصلے پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔اور کہا کہ یہ معاہدے کی پاسداری اور بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے امن اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور پہلگام واقعہ سے متعلق آزاد ، شفاف تحقیقات کے لیے پاکستان کی تجویز کا ایک بار پھر ذکر کیا۔
یورپی یونین کی نمائندہ برائے خارجہ امور و سلامتی پالیسی نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں فریقوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے خطے میں امن اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے بات چیت کی اہمیت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے پاک یورپی یونین تعلقات پر بھی بات چیت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسحاق ڈار پہلگام واقعہ یورپی یونین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار پہلگام واقعہ یورپی یونین یورپی یونین اسحاق ڈار کے لیے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :