اگر جنگ چھڑ گئی تو بھارت کا نقصان پاکستان سے کہیں زیادہ ہوگا، خواجہ سعد رفیق
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے خطے میں پرامن رہنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ چھڑ گئی تو بھارت کا نقصان پاکستان سے کہیں زیادہ ہوگا۔لاہور میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ آج کل افسوس ناک صورتحال سے پورا خطہ گزر رہا، بھارت میں اکھنڈ بھارت کے حامیوں کواپنی سوچ پر نظر ثانی کرنی چاہیے، ہماری نالائقیوں اور بھارتی سازشوں کے نتیجے میں بنگلہ دیش بن گیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نصف دہائی تک بنگلہ دیش سے دور رہے لیکن اب بنگلہ دیش اپنے اصل کی طرف لوٹ آیا ہے، بنگلہ دیش کو بھارت کے اثر میں رکھنے کی سوچ کامیاب نہیں ہوسکی۔رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود اکھنڈ بھارت کے حامی کشمیریوں کے پاکستان سے رشتے کو کمزور نہیں کر سکے، ایک دوسرے کو فتح کرنے کی سوچ رکھنے کے بجائے مل بیٹھنا چاہیے۔مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں اقوام متحدہ کی قرار دادوں سے متعلق کشمیر میں استصواب رائے پر بات ہونی چاہیے، ہم ایٹم بم بنا چکے ہیں، ہمیں ایٹمی تجربے پر انڈیا نے ہی مجبور کیا۔ان کا کہنا تھا کہ بھارتی قیادت کو سوچنا چاہیے کہ اس طرح کے واقعات پر مجبور نہ کرے، سوچنا ہوگا پہلگام واقعے کا فائدہ مند کون ہے، پاکستان نہیں چاہتا کہ خطے میں لڑائی ہو اور دونوں طرف خون بہے۔
آئی ایم ایف پاکستان کو قرض کی فراہمی پر نظرثانی کرے، بھارت کا آئی ایم ایف سے مطالبہ
انہوں نے کہا کہ بھارتی قیادت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ انہوں نے کب تک پاکستان کو انگیج رکھنا ہے، اگر جنگ چھڑ گئی تو بھارت کا نقصان پاکستان سے کہیں زیادہ ہوگا۔دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اس کرائسز میں ٹھیک طریقے سے کنڈکٹ کیا ہے، اگر پاکستان غیرجانب درانہ تحقیقات کے لیے تیار ہے تو بھارت کو مثبت رد عمل دینا چاہیے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پاکستان سے بنگلہ دیش بھارت کا تو بھارت نے کہا
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔