بھارت بغیر شواہد کے الزامات پاکستان پر لگاتا ہے: شیری رحمان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
پاکستان پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان —فائل فوٹو
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ صورتحال اس وقت بھی کشیدہ ہے دونوں ممالک میں اس سطح کی کشیدگی ہوئی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر اور سابق وفاقی وزیراطلاعات شیری رحمان نے کہا ہے کہ بھارت آئے روز جنگ کا طبل بجا رہا ہوتا ہے اور بھارت کے لیڈرز پاکستان کے خلاف بات کر رہے ہوتے ہیں۔
شیری رحمان نے بتایا کہ سیکیورٹی اور سیاسی سطح پر چوکنا رہنے کی ضرورت ہے، ایل او سی پر رات کو روز فائرنگ ہو رہی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی ) کی مرکزی رہنما اور سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ نہریں نکالنے کے معاملے پر غلط بیانی نہ کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ بھارت بغیر شواہد کے الزامات پاکستان پر لگاتا ہے، بھارت نے اپنے بیانیے میں زہر گھول دیاہے، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھارت کا بیانیہ کمزور ہوتا جارہا ہے۔
سینئر پی پی پی رہنما نے عالمی سطح پر پاک بھارت صورتحال پر پائی جانے والی سوچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ توقع تھی کہ امریکی مؤقف کا جھکاؤ بھارت کی جانب ہوگا لیکن توقعات کے برعکس امریکا نے معاملے میں توازن رکھنے کی کوشش کی، جس کی وجہ سے بھارت سفارتی سطح پر بھی منہ کی کھا رہا ہے۔
شیری رحمان نے بتایا کہ مس ایڈونچر بھارت کا وتیرا رہا ہے، بھارت پھر کوئی جھوٹا بیانیہ بنا کر پروپیگنڈا کرے گا۔
انہوں نے بھارتی حکمت عملی کے حوالے سے بتایا کہ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا بھارت کا طے شدہ منصوبہ تھا، انڈس واٹر ٹریٹی بھارت کو بہت کھٹک رہا ہے۔
مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے پی پی پی سینیٹر نے کہا کہ مقبوضہ جموں کشمیر مکمل طور پر چھاؤنی بن چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پاکستان پیپلز پارٹی کہا ہے کہ پی پی پی رہا ہے نے کہا
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :