بھارت اور مصر کا دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کوششیں مضبوط بنانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
قاہرہ(اوصاف نیوز)ہندوستان اور مصر نے بدھ کو قاہرہ میں انسداد دہشت گردی پر مشترکہ ورکنگ گروپ کا چوتھا اجلاس منعقد کیا۔ انہوں نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
وزارت خارجہ (MEA) کی پریس ریلیز کے مطابق، مصر نے ہر قسم کے تشدد کا مقابلہ کرنے میں ہندوستان کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ ہندوستان اور مصر نے پہلگام میں حالیہ “گھناؤنے دہشت گردانہ حملے” کی شدید مذمت کی جس میں سیاحوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ایک پریس ریلیز میں، MEA نے کہا، “ہندوستان اور مصر نے پہلگام میں حالیہ گھناؤنے دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کی جس میں ملکی اور بین الاقوامی سیاحوں کو نشانہ بنایا گیا۔ مصر نے ملک کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کے مقصد سے ہر قسم کے تشدد اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں ہندوستان کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔”
“دونوں فریقوں نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ دونوں فریقوں نے اپنے اپنے ممالک اور خطوں میں دہشت گردی کے خطرات پر تبادلہ خیال کیا۔”
دونوں وفود کی قیادت سفیر کے ڈی دیول، وزارت خارجہ کے جوائنٹ سیکرٹری (کاؤنٹر ٹیررازم) اور سفیر ولید الفیقی، ڈائریکٹر برائے انسداد دہشت گردی، وزارت خارجہ مصر کے کر رہے تھے اور ان میں دونوں ممالک کی مختلف ایجنسیوں کے نمائندے شامل تھے۔
دونوں ممالک نے دہشت گردی کے مقاصد کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال اور دہشت گردی کی مالی معاونت، بشمول کرپٹو کرنسی، بغیر پائلٹ کے فضائی نظام اور دہشت گردی کے پروپیگنڈے کو پھیلانے کے لیے دہشت گردوں کی جانب سے سائبر اسپیس کے غلط استعمال جیسے نئے اور ابھرتے ہوئے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تعاون کے شعبوں کو مضبوط کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔
ہندوستان اور مصر نے انسداد منی لانڈرنگ کی کوششوں، منشیات کی اسمگلنگ اور منظم جرائم میں دو طرفہ تعاون کو مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا۔ دونوں ممالک نے تربیت اور صلاحیت سازی، سائبر سیکیورٹی، انسداد دہشت گردی کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال، بہترین طریقوں کے تبادلے اور معلومات کے تبادلے میں تعاون کو گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔
دونوں ممالک نے اقوام متحدہ اور برکس سمیت دہشت گردی کے انسداد میں کثیر الجہتی تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ مشترکہ ورکنگ گروپ کی اگلی میٹنگ باہمی طور پر مناسب تاریخ پر ہندوستان میں ہوگی۔
ایک پریس ریلیز میں، MEA نے کہا، “دونوں فریقوں نے انسداد دہشت گردی، بشمول اقوام متحدہ، برکس، گلوبل کاؤنٹر ٹیررازم فورم (GCTF) اور FATF میں کثیر الجہتی تعاون کو مضبوط بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔”
“اس تناظر میں، دونوں فریقوں نے GCTF کی تاثیر کو بڑھانے کے بارے میں خیالات کا تبادلہ کیا اور بین الاقوامی دہشت گردی پر اقوام متحدہ کے جامع کنونشن (CCIT) کو جلد حتمی شکل دینے اور اسے اپنانے کے عزم کا اعادہ کیا”۔
امید ہے پہلگام حملے پر بھارتی ردعمل علاقائی تنازع کا باعث نہیں بنے گا، امریکی نائب صدرجے ڈی وینس
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ہندوستان اور مصر نے کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا پر اتفاق کیا دہشت گردی کے دونوں ممالک تعاون کو کے لیے
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقاتاٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع
دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہسرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔
پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورکپاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔
اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیںرپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاریملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین