وزیراطلاعات اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی بریفنگ، سیاسی قیادت کا بھارت کیخلاف بھرپور یکجہتی کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
ملک بھر کی سیاسی قیادت نے پاکستان کے خلاف بھارت کی کشیدگی کے دوران بھر پور یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنی فوج کے ساتھ کھڑی ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ اور پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجرجنرل احمد شریف نے پاک-بھارت کشیدگی کے دوران قومی سلامتی کے حوالے سے ملک بھر کی سیاسی قیادت کو پاکستان ٹیلی ویژن سینٹر اسلام آباد میں ان کیمرا بریفنگ دی۔
ترجمان پاک فوج نے بریفنگ کے دوران کہا کہ اگر پاکستان پر جارحیت مسلط کی جاتی ہے تو افواج پاکستان دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
ان کیمرا سیشن میں موجودہ کشیدہ حالات کے پیش نظر قومی سلامتی کے امور زیر غور آئے اور پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے تناظر میں ہونے والے سیشن میں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے سیاسی جماعتوں کے شریک رہنماؤں کو پاک فوج کی تیاریوں سے آگاہ کیا اور کہا کہ پاکستان ایک پُر امن ملک ہے اور خطے میں امن چاہتا ہے لیکن اگر پاکستان پر جارحیت مسلط کی جاتی ہے تو افواج پاکستان دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے علاوہ ان کیمرہ سیشن میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے سیاسی قائدین کو حکومتی سفارتی اقدامات اور ریاستی مؤقف سے بھی اگاہ کیا۔
اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے علی حیدر گیلانی، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق۔ جمعیت علماء اسلام کے نور عالم خان، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وزیر مملکت کھیل داس، وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک، محسن شاہنواز رانجھا بھی شامل تھے۔
دیگر رہنماؤں میں وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر امیر مقام، وزیرمملکت بلال اظہر کیانی، پاکستان پیپلز پارٹی کے قمر زمان کائرہ اور خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ محمود خان، سندھ کے وزرا ناصرشاہ، شرجیل میمن اور سعید غنی، پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کی سیکریٹری اطلاعات شازیہ مری اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز بدر بھی موجود تھے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان وفاقی وزیر ایس پی
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔