وزیراعظم کا سروسز چیفس کے ہمراہ آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرزکا دورہ، وطن کے دفاع کے عزم کا اعادہ WhatsAppFacebookTwitter 0 6 May, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(سب نیوز) وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جس میں وزیراعظم کو موجودہ سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور انہیں مشرقی سرحد پر بھارت کے جارحانہ اور اشتعال انگیز اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم کے ہمراہ وزیرخارجہ اسحاق ڈار ، وزیردفاع خواجہ آصف اور سروسز چیفس بھی تھے۔اس موقع پر وزیراعظم کو موجودہ سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں پاکستان کی مشرقی سرحد پر بھارت کے بڑھتے ہوئے جارحانہ اور اشتعال انگیز رویے کے تناظر میں روایتی خطرات سے نمٹنے کی تیاریوں پر خاص زور دیا گیا اور قیادت کو علاقائی سلامتی کی صورتحال اور خطرات کے بدلتے ہوئے تناظر، بشمول روایتی عسکری اقدامات، ہائبرڈ وار فیئر کی حکمت عملیوں اور دہشت گرد پراکسیز سے متعلق آگاہ کیا گیا۔
وزیر اعظم اور ان کے ہمراہ معزز شخصیات نے قومی چوکسی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور آپریشنل تیاری کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کسی بھی خلاف ورزی کا موثر اور فیصلہ کن جواب دیا جاسکے۔وزیراعظم نے ادارے کی پیشہ ورانہ مہارت اور اسٹریٹجک فہم کو سراہتے ہوئے قومی مفادات کے تحفظ اور مشکل و متحرک حالات میں قومی سلامتی سے متعلق باخبر فیصلوں میں اس کے کردار کی تعریف کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پوری قوم اپنی بہادر افواج کے ساتھ کھڑی ہے، پاکستان آرمی دنیا کی سب سے زیادہ پیشہ ور اور نظم و ضبط کی حامل افواج میں سے ایک ہے۔قومی قیادت نے وطنِ عزیز کے دفاع کے لیے پاکستان کے غیر مبہم عزم کا اعادہ کیا، چاہے وہ خطرات روایتی ہوں یا غیر روایتی، اور یہ یقین دہانی کرائی کہ قوم کی مکمل حمایت کے ساتھ، مسلح افواج تمام ریاستی اداروں اور قومی طاقت کے عناصر کی مدد سے پاکستان کی سلامتی، وقار اور عزت کے تحفظ کے لیے ہر وقت مکمل طور پر تیار ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسی ڈی اے بورڈ ممبران اور ملازمین کو پلاٹ الاٹمنٹ کرنے کا معاملہ ،اجلاس کے اہم نکات سب نیوز نے حاصل کرلئے سی ڈی اے بورڈ ممبران اور ملازمین کو پلاٹ الاٹمنٹ کرنے کا معاملہ ،اجلاس کے اہم نکات سب نیوز نے حاصل کرلئے پبلک اکائونٹس کمیٹی نے پی اے آر سی میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس ایف آئی اے کو بھجوا دیا چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت اجلاس ، جاری اور نئے ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار کا جائزہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ اینڈ پروفیشنل ڈویلپمنٹ کے زیر تربیت افسران کا سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز کا دورہ حالیہ کشیدگی پر ترک صدر نے پاکستان کے شانہ بہ شانہ کھڑا رہنے کا اعلان کیا، عرفان صدیقی رچرڈ گرینل کا ایک بار پھر عمران خان کے حق میں بیان، پی ٹی آئی کو اب بھی امید TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: کے ہمراہ

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی