ویب ڈیسک: قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھارت کے حالیہ جارحانہ اقدامات کے خلاف تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر آواز بلند کی، ایوان بھارت کی جارحیت، فالس فلیگ آپریشن اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر ایک زبان دکھائی دیا۔

اجلاس کی صدارت اسپیکر سردار ایاز صادق نے کی جس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی انسانیت کے خلاف جرم ہے، پاکستان دہشتگردی برآمد نہیں کر رہا بلکہ خود اس کا شکار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی قوم نے ڈر کر جینا نہیں سیکھا، بھارت اپنی نااہلی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد کمی کردی

پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت نے کوئی مس ایڈونچر کیا تو پاکستان سخت ترین جواب دے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک ہمسایے ہیں، بار بار جنگ کی بات کرنا دانشمندی نہیں۔

پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج شہید ذوالفقار علی بھٹو کی یاد آرہی ہے جنہوں نے ایٹمی طاقت کی بنیاد رکھی، جس کی بدولت آج بھارت پاکستان کی طرف بڑھنے سے گریزاں ہے۔

یہ اپریل ہسٹری کا گرم ترین اپریل کیوں تھا

ایم کیو ایم پاکستان کے رکن فاروق ستار نے اپنے خطاب میں کہا کہ مودی کا بیانیہ زمین بوس ہو رہا ہے، اگر بھارت نے شوق پورا کرنا ہے تو آئے، ہم انڈین ایئر فورس کا پورا اسکواڈرن اتاریں گے۔

اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے ایوان میں حکومتی غیرحاضری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم سمیت 22 وزراء کی نشستیں خالی تھیں، جبکہ پیپلز پارٹی کی قیادت مکمل طور پر موجود رہی۔

سینئر سیاستدان اعجاز الحق نے کہا کہ جب بھی قوم پر مشکل وقت آتا ہے، ہم اپنے اختلافات بھلا کر متحد ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایوان پر سنجیدگی سے توجہ دی جائے۔

سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے خطاب میں کہا کہ پاکستان کے سیاستدان، افواج اور پولیس نے ملک کی سلامتی کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ بھارت کی عوام اب خود مودی سرکار سے سوال کر رہی ہے کہ وہ سفارتکاری میں کیوں ناکام ہوئی؟ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت بند گلی کی طرف بڑھ رہا ہے۔

شرمیلا فاروقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پہلگام واقعے سے سب کے دل لرز گئے، لیکن پاکستان وہ ملک ہے جو دہشتگردوں کو چن چن کر مارتا ہے۔

پنجاب حکومت کا “سٹوڈنٹ کارڈ” لانچ کرنے کا فیصلہ

ایوان میں اس غیر معمولی اتحاد کو عوامی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے، سیاسی و عسکری قیادت کی ہم آواز پالیسی بھارت کو مضبوط پیغام دے رہی ہے کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رہا ہے

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا