پہلگام حملہ پاکستان کی ترقی روکنے کی سازش ہے: وزیر اطلاعات عطاتارڑ
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
ویب ڈیسک: سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر اطلاعات عطاتارڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے تانے بانے بھارت سے ملتے ہیں، ملک کی سالمیت پر بھی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی جا رہی ہے جو افسوسناک ہے۔
عطاتارڑ نے کہا کہ پاکستان میں آپس کے اختلافات سیاسی نوعیت کے ہیں جن کا دفاعی یا خارجہ پالیسی سے کوئی تعلق نہیں، دشمن نہ صرف مکار اور بدنیت ہے بلکہ بیوقوف بھی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ میڈیا کو اُن مقامات پر لے جایا گیا جہاں بھارت دعویٰ کرتا رہا کہ دہشتگردوں کے کیمپ قائم ہیں، لیکن وہاں کچھ نہیں تھا۔
اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد کمی کردی
وزیر اطلاعات نے بھارت کے تازہ ترین "پہلگام فالس فلیگ" حملے کو بہار الیکشن میں سیاسی فائدہ حاصل کرنے اور پاکستان کی ترقی کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کی سازش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام پاکستان کی سرحد سے 150 سے 200 کلومیٹر دور ہے، ایسے میں پاکستان سے لوگوں کا جا کر حملہ کرنا ممکن نہیں۔
عطاتارڑ نے کہا کہ پہلگام پولیس اسٹیشن میں محض 10 منٹ میں ایف آئی آر درج ہونا بھارتی منصوبہ بندی کو بے نقاب کرتا ہے۔ بھارتی فوج کا یونٹ اس مقام کو سکیورٹی دینے میں ناکام رہا۔ انہوں نے بھارتی نیوی کے کمانڈر کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی دہشتگردی میں ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔
یہ اپریل ہسٹری کا گرم ترین اپریل کیوں تھا
وزیر اطلاعات نے اعلان کیا کہ بھارتی مظالم کے خلاف آواز اٹھانے والے سکھوں کو سلام پیش کرتے ہیں اور سوال اٹھایا کہ جعفر ایکسپریس حملے کی پہلی فوٹیج بھارت تک کیسے پہنچی؟
عطاتارڑ نے ایوان میں زور دیا کہ قومی سلامتی جیسے حساس معاملات پر سیاست کی بجائے اتحاد کا مظاہرہ کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: وزیر اطلاعات عطاتارڑ نے کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔