ویب ڈیسک: سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر اطلاعات عطاتارڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے تانے بانے بھارت سے ملتے ہیں، ملک کی سالمیت پر بھی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی جا رہی ہے جو افسوسناک ہے۔

عطاتارڑ نے کہا کہ پاکستان میں آپس کے اختلافات سیاسی نوعیت کے ہیں جن کا دفاعی یا خارجہ پالیسی سے کوئی تعلق نہیں، دشمن نہ صرف مکار اور بدنیت ہے بلکہ بیوقوف بھی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ میڈیا کو اُن مقامات پر لے جایا گیا جہاں بھارت دعویٰ کرتا رہا کہ دہشتگردوں کے کیمپ قائم ہیں، لیکن وہاں کچھ نہیں تھا۔

اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد کمی کردی

وزیر اطلاعات نے بھارت کے تازہ ترین "پہلگام فالس فلیگ" حملے کو بہار الیکشن میں سیاسی فائدہ حاصل کرنے اور پاکستان کی ترقی کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کی سازش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام پاکستان کی سرحد سے 150 سے 200 کلومیٹر دور ہے، ایسے میں پاکستان سے لوگوں کا جا کر حملہ کرنا ممکن نہیں۔

عطاتارڑ نے کہا کہ پہلگام پولیس اسٹیشن میں محض 10 منٹ میں ایف آئی آر درج ہونا بھارتی منصوبہ بندی کو بے نقاب کرتا ہے۔ بھارتی فوج کا یونٹ اس مقام کو سکیورٹی دینے میں ناکام رہا۔ انہوں نے بھارتی نیوی کے کمانڈر کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی دہشتگردی میں ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔

یہ اپریل ہسٹری کا گرم ترین اپریل کیوں تھا

وزیر اطلاعات نے اعلان کیا کہ بھارتی مظالم کے خلاف آواز اٹھانے والے سکھوں کو سلام پیش کرتے ہیں اور سوال اٹھایا کہ جعفر ایکسپریس حملے کی پہلی فوٹیج بھارت تک کیسے پہنچی؟

عطاتارڑ نے ایوان میں زور دیا کہ قومی سلامتی جیسے حساس معاملات پر سیاست کی بجائے اتحاد کا مظاہرہ کیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: وزیر اطلاعات عطاتارڑ نے کہا کہ

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی