پہلگام واقعہ پر بھارتی الزامات مسترد، دنیا خطے میں امن کیلئے کردار ادا کرے: پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
نیویارک(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان نے پہلگام واقعہ پر بھارتی الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق نیویارک میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا جان لے پاکستان کا پہلگام واقعہ سے کوئی تعلق نہیں، دنیا اس واقعہ کی صاف شفاف تحقیقات کرے پاکستان مکمل تعاون کرے گا۔
عاصم افتخار نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی سالمیت اور دفاع کیلئے مکمل تیار ہے، بھارت نے یکطرفہ طور پر ورلڈ بینک کے توسط سے طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کو ختم کیا، پانی زندگی ہے، جنگوں میں استعمال ہونے والا ہتھیار نہیں، ماضی میں لڑی جانے والی جنگوں کے دوران بھی دریاؤں کا پانی نہیں روکا گیا۔
سرمایہ کاروں کو انویسٹمنٹ پر 55 لاکھ فیصد سے زیادہ منافع دینے والے وارن بفیٹ، یہ سب کیسے کیا؟
انہوں نے کہا ہے کہ 24 کروڑ پاکستانیوں کا انحصار ان دریاؤں پر ہے، اگر پانی روکا گیا تو نتائج کا ذمہ دار بھارت ہو گا، جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا خطے میں امن قائم نہیں ہو گا، مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔
پاکستان کے مستقل مندوب نے یہ بھی کہا ہے کہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی مسئلہ ہے، بھارت کے حالیہ اقدامات پر شدید تحفظات ہیں، دنیا خطے میں امن کے قیام کیلئے کردار ادا کرے، پاکستان کی درخواست پر اجلاس بلانے پر سلامتی کونسل کے مشکور ہیں۔
ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (منگل) کا دن کیسا رہے گا ؟
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کہا ہے کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔