بھارت پاکستان کیخلاف سوئی برابر ثبوت بھی پیش نہیں کر سکا، ڈاکٹر معید یوسف
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
نجی ٹی وی کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایسے ماحول میں جب تک کشیدگی کم نہ ہو جائے، خطرہ موجود رہتا ہے، بھارت سوئی برابر ثبوت بھی پیش نہیں کر سکا جس کی وجہ سے دنیا نے ان کی حمایت نہیں کی۔ اسلام ٹائمز۔ سابق مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا ہے کہ بھارت پہلگام فالس فلیگ آپریشن کرکے پھنس گیا اور دنیا نے اس مرتبہ بھارت کو مایوس کیا ہے۔ نجی ٹی وی کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایسے ماحول میں جب تک کشیدگی کم نہ ہو جائے، خطرہ موجود رہتا ہے، بھارت سوئی برابر ثبوت بھی پیش نہیں کر سکا جس کی وجہ سے دنیا نے ان کی حمایت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پر اٹھنے والے سولات حقیقی ہیں، بھارت کہتا تھا کشمیر جنت بنا ہوا ہے، یہاں سرمایہ کاری لائیں پھر دہشتگردی ہوئی تو 10 سالہ پرانی روش یعنی پاکستان پر الزام لگا دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر پاکستان سے حملہ آور گئے ہیں تو آپ سو رہے تھے، بھارت کی نسبت ہمارا میڈیا ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہا ہے اس سے بھارت دنیا کے سامنے مزید بے نقاب ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔