دنیا کے عدم استحکام کا جواب خطے کے استحکام کے ساتھ دیں، چینی وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
بیجنگ : 28ویں آسیان، چین، جاپان اور جنوبی کوریا (10+3) وزرائے خزانہ اور مرکزی بینک کے گورنرز کا اجلاس اٹلی کے شہر میلان میں منعقد ہوا۔پیر کے روز چینی میڈ یا کے مطابقاجلاس کے دوران چینی وزیر خزانہ لان فو آن نے کہا کہ موجودہ عالمی معاشی صورت حال میں گہری تبدیلیاں آ چکی ہیں، گلوبلائزیشن کو مشکلات کا سامنا ہے، یکطرفہ اور تحفظ پسندی میں اضافہ ہوا ہے، اور غیر مستحکم اور غیر یقینی عوامل میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس دوران 10+3 علاقائی معیشت نے مضبوط لچک کا مظاہرہ کیا ہے ۔اس میں ترقی کی بہت گنجائش موجود ہے ، لیکن اسے پیچیدہ اور شدید اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ تمام فریقین 10+3 رہنماؤں کے اجلاس میں طے پانے والے اتفاق رائے پر سختی سے عمل درآمد کریں، کثیرالجہتی اور آزاد تجارت کی پاسداری کریں، میکرو پالیسی مواصلات اور کوآرڈینیشن کو مضبوط بنائیں، علاقائی تجارت اور سرمایہ کاری تعاون کو گہرا کریں، پروڈکشن اور سپلائی چینز میں استحکام اور ہم آہنگی کو برقرار رکھیں اور علاقائی اقتصادی اور مالیاتی استحکام اور انضمام میں زیادہ سے زیادہ حصہ ڈالیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اپریل کے اوائل میں منعقدہ ہمسایہ ممالک سے متعلق سینٹرل ورک کانفرنس میں ، چین نے پڑوسی ممالک کے ساتھ اسٹریٹجک باہمی اعتماد کو مستحکم کرنے ، ترقی اور انضمام کو گہرا کرنے اور ایک بہتر مستقبل تشکیل دینے کے لئے مل کر کام کرنے کی تجویز پیش کی۔ چین 10+3 کے تمام فریقوں کے ساتھ مل کر کھلے پن، شمولیت، یکجہتی اور تعاون کو برقرار رکھنے اور علاقائی مالیاتی تعاون کو گہرا کرنے کے لئے تیار ہے اور ہمیں دنیا کے عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال کا جواب خطے کےاستحکام اور یقین کے ساتھ دینا چاہئے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: استحکام اور کے ساتھ
پڑھیں:
علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔