امارات نے تنزانیا میں بدامنی کے باعث پروازیں منسوخ کر دیں
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251104-06-5
ابوظی (انٹرنیشنل ڈیسک) امارات نے بد امنی کی وجہ سے تنزانیا کے لیے پروازیں منسوخ کر دیں۔ سرکاری ائرلائن نے 4 نومبر تک دارالسلام جانے اور آنے والی تمام پروازیں معطل کر دی ہیں کیونکہ بدامنی تنزانیہ کے تجارتی دارالحکومت اور مقبول سیاحتی گیٹ وے کو متاثر کر رہی ہے۔ بیان میں 31 اکتوبر سے شروع ہونے والی 10 پروازیں دبئی سے 5روانگی اور 5واپسی کی منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا۔حکام کا کہنا ہے کہ ہم صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اپنے صارفین کو ہونے والی کسی بھی تکلیف کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ سرکاری ائرلائن ایمریٹس اس روٹ پر روزانہ پروازیں چلاتی ہے جو متحدہ عرب امارات کے مسافروں کو تنزانیا کے ساحلوں، سفاری مقامات اور زنجبار کے جزائر سے جوڑتا ہے۔ مشرقی افریقی ملک تنزانیا میں متنازع صدارتی انتخابات کے خلاف مظاہروں میں 700 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ مشتعل مظاہرین نے دارالسلام ایئرپورٹ پر دھاوا بول دیا، سڑکوں پر بسوں، پٹرول پمپس اور پولیس اسٹیشنز کو بھی آگ لگا دی گئی اور کئی پولنگ مراکز تباہ کر دیے۔ تنزانیا کی اپوزیشن جماعت کے ترجمان کے مطابق دارالسلام میں 350 اور موانزا میں 200 سے زائد افراد مارے گئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔