میڈیا کیساتھ ایل اوسی کا دورہ ‘ہمارے پاس بھارت کے دہشتگردی میں ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوٹ ہیں عطاتارڑ
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر جھوٹے الزامات عائد کرنے کی روش کوئی نئی بات نہیں۔ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے جھوٹ پر مبنی بیانیے گھڑے لیکن پاکستان نے ہر موقع پر ذمہ داری، شفافیت اور حقیقت پر مبنی ردعمل دیا۔ میڈیا کو لائن آف کنٹرول کے ان علاقوں کا دورہ کرایا جن کے بارے میں بھارت نے دہشت گردی کے خیالی کیمپس کا جھوٹا پروپیگنڈا کیا۔ لائن آف کنٹرول کے ساتھ تمام رہائشی علاقوں اور اطراف میں زندگی معمول کے مطابق ہے۔ کنٹرول لائن کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ آزاد کشمیر کے علاقے بیلا نور شاہ اور پیر چناسی سے متعلق بھارتی الزامات من گھڑت اور بے بنیاد ہیں، یہاں نہ صرف مقامی آبادی معمول کی زندگی گزار رہی ہے بلکہ تعلیمی ادارے بھی یہاں موجود ہیں اور سیاحت بھی معمول کے مطابق جاری ہے۔ ان علاقوں میں نہ کوئی دہشت گردی کا کیمپ ہے اور نہ ہی ایسی کوئی سرگرمی جس کا بھارت دعویٰ کر رہا ہے۔ بھارت کی جانب سے 2019ء میں پلوامہ واقعے کے بعد بھی بالاکوٹ میں خیالی ٹریننگ کیمپوں کا ڈرامہ رچایا گیا تھا جس کا ہم نے زمینی حقائق اور شواہد کے ساتھ جواب دیا۔ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے جو امن کی خواہاں ہے لیکن اپنی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع سے غافل نہیں۔ پاکستان کے پاس بھارت کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ کلبھوشن یادیو ایک زندہ مثال ہے جو پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا اور گرفتار ہوا۔ جعفر ایکسپریس حملے کے بعد بھارتی میڈیا کی جانب سے نہ صرف دہشت گردوں سے فوٹیج حاصل کی گئی بلکہ اسے نشر کر کے خوشی کا اظہار کیا گیا حالانکہ یہ واقعہ دنیا کے سنگین ترین دہشت گردی کے واقعات میں سے ایک تھا۔ بی ایل اے کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد بھارتی چینلز پر ان کے انٹرویوز اور بیانات نشر ہونا اس امر کا ثبوت ہے کہ ان عناصر کو بھارتی سرپرستی حاصل ہے۔ پہلگام واقعہ جس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں، اسے بنیاد بنا کر پاکستان پر الزام تراشی کی گئی حالانکہ ایف آئی آر واقعہ کے صرف دس منٹ بعد درج کی گئی اور انٹرنیشنل میڈیا بھی دکھا رہا ہے کہ پہلگام واقعہ کی جھوٹی ویڈیوز چلائی گئیں۔ پہلگام واقعہ درحقیقت بھارتی سکیورٹی اداروں کی ناکامی ہے۔ پاکستان پر اس فالس فلیگ آپریشن کا الزام تھوپنے کی کوشش ناکام ہوئی کیونکہ پاکستان نے واقعہ کی شفاف تحقیقات کی پیشکش کی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے ہاتھ صاف ہیں۔ ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں۔ اگر بھارت پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا تو دفاع اتنے بھرپور انداز میں کریں گے کہ بھارت کی نسلیں یاد رکھیں گی۔ بھارت نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث پایا گیا ہے۔ امریکا اور کینیڈا میں سکھ رہنمائوں کے قتل کی منصوبہ بندی میں بھی بھارتی کردار سامنے آیا ہے۔ کینیڈا کے وزیراعظم نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارت ملوث ہے۔ قبل ازیں عطاء اللہ تارڑ نے بین الاقوامی اور مقامی میڈیا کے ہمراہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی)کے ان علاقوں کا دورہ کیا جنہیں بھارت بارہا پاکستان میں مبینہ دہشت گردی کے ٹھکانے قرار دیتا رہا ہے۔ میڈیا کے نمائندوں کو ان مخصوص مقامات پر لے جایا گیا جنہیں بھارت کی جانب سے مبینہ دہشت گردی کے ٹھکانے قرار دیا گیا تھا۔ زمینی حقائق، مقامی آبادی کی گواہی اور حالات کا خود مشاہدہ کر کے میڈیا نے ان بھارتی دعووں کی حقیقت جاننے کا موقع حاصل کیا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ بھارت ایک طرف پاکستان پر الزام تراشی کر رہا ہے اور دوسری جانب وہ خود اپنے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: دہشت گردی کے پاکستان پر کی جانب سے بھارت کی میں ملوث رہا ہے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔