اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر جھوٹے الزامات عائد کرنے کی روش کوئی نئی بات نہیں۔ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے جھوٹ پر مبنی بیانیے گھڑے لیکن پاکستان نے ہر موقع پر ذمہ داری، شفافیت اور حقیقت پر مبنی ردعمل دیا۔ میڈیا کو لائن آف کنٹرول کے ان علاقوں کا دورہ کرایا جن کے بارے میں بھارت نے دہشت گردی کے خیالی کیمپس کا جھوٹا پروپیگنڈا کیا۔ لائن آف کنٹرول کے ساتھ تمام رہائشی علاقوں اور اطراف میں زندگی معمول کے مطابق ہے۔ کنٹرول لائن کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں  عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ آزاد کشمیر کے علاقے بیلا نور شاہ اور پیر چناسی سے متعلق بھارتی الزامات من گھڑت اور بے بنیاد ہیں، یہاں نہ صرف مقامی آبادی معمول کی زندگی گزار رہی ہے بلکہ تعلیمی ادارے بھی یہاں موجود ہیں اور سیاحت بھی معمول کے مطابق جاری ہے۔ ان علاقوں میں نہ کوئی دہشت گردی کا کیمپ ہے اور نہ ہی ایسی کوئی سرگرمی جس کا بھارت دعویٰ کر رہا ہے۔  بھارت کی جانب سے 2019ء میں پلوامہ واقعے کے بعد بھی بالاکوٹ میں خیالی ٹریننگ کیمپوں کا ڈرامہ رچایا گیا تھا جس کا ہم نے زمینی حقائق اور شواہد کے ساتھ جواب دیا۔ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے جو امن کی خواہاں ہے لیکن اپنی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع سے غافل نہیں۔ پاکستان کے پاس بھارت کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ کلبھوشن یادیو ایک زندہ مثال ہے جو پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا اور گرفتار ہوا۔ جعفر ایکسپریس حملے کے بعد بھارتی میڈیا کی جانب سے نہ صرف دہشت گردوں سے فوٹیج حاصل کی گئی بلکہ اسے نشر کر کے خوشی کا اظہار کیا گیا حالانکہ یہ واقعہ دنیا کے سنگین ترین دہشت گردی کے واقعات میں سے ایک تھا۔ بی ایل اے کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد بھارتی چینلز پر ان کے انٹرویوز اور بیانات نشر ہونا اس امر کا ثبوت ہے کہ ان عناصر کو بھارتی سرپرستی حاصل ہے۔ پہلگام واقعہ جس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں، اسے بنیاد بنا کر پاکستان پر الزام تراشی کی گئی حالانکہ ایف آئی آر واقعہ کے صرف دس منٹ بعد درج کی گئی اور انٹرنیشنل میڈیا بھی دکھا رہا ہے کہ پہلگام واقعہ کی جھوٹی ویڈیوز چلائی گئیں۔ پہلگام واقعہ درحقیقت بھارتی سکیورٹی اداروں کی ناکامی ہے۔ پاکستان پر اس فالس فلیگ آپریشن کا الزام تھوپنے کی کوشش ناکام ہوئی کیونکہ پاکستان نے واقعہ کی شفاف تحقیقات کی پیشکش کی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے ہاتھ صاف ہیں۔ ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں۔ اگر بھارت پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا تو دفاع اتنے بھرپور انداز میں کریں گے کہ بھارت کی نسلیں یاد رکھیں گی۔ بھارت نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث پایا گیا ہے۔ امریکا  اور کینیڈا میں سکھ رہنمائوں کے قتل کی منصوبہ بندی میں بھی بھارتی کردار سامنے آیا ہے۔ کینیڈا کے وزیراعظم نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارت ملوث ہے۔ قبل ازیں عطاء اللہ تارڑ نے بین الاقوامی اور مقامی میڈیا کے ہمراہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی)کے ان علاقوں کا دورہ کیا جنہیں بھارت بارہا پاکستان میں مبینہ دہشت گردی کے ٹھکانے قرار دیتا رہا ہے۔ میڈیا کے نمائندوں کو ان مخصوص مقامات پر لے جایا گیا جنہیں بھارت کی جانب سے مبینہ دہشت گردی کے ٹھکانے قرار دیا گیا تھا۔ زمینی حقائق، مقامی آبادی کی گواہی اور حالات کا خود مشاہدہ کر کے میڈیا نے ان بھارتی دعووں کی حقیقت جاننے کا موقع حاصل کیا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ بھارت ایک طرف پاکستان پر الزام تراشی کر رہا ہے اور دوسری جانب وہ خود اپنے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: دہشت گردی کے پاکستان پر کی جانب سے بھارت کی میں ملوث رہا ہے

پڑھیں:

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار

اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33  ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط  بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے  کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎

متعلقہ مضامین

  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار