نیویارک: پاکستان کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس جاری
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
فائل فوٹو
پاکستان کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس نیویارک میں شروع ہوگیا، اجلاس میں پاک بھارت کشیدگی سے پیدا صورتحال پر غور کیا جارہا ہے۔
سلامتی کونسل کے 15 اراکین بشمول پانچ مستقل ارکان اجلاس میں شریک ہیں، پاکستان رکن ممالک کو بھارت کی اشتعال انگیز بیانات اور امن کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات سے آگاہ کرے گا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے، پاکستان اور بھارت کے عوام کی امن مشنز میں کارکردگی پر شکرگزار ہوں۔
مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد، سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے بھارتی اقدام پر اراکین کو بریفنگ دیں گے۔
زرائع کے مطابق پاکستان، کشمیر تنازع اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی طرف بھی توجہ دلائے گا۔
پاکستان سلامتی کونسل سے مطالبہ کرے گا کہ وہ علاقائی امن کو لاحق خطرات کا نوٹس لے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔
اجلاس سے کچھ دیر پہلے وزیراعظم شہباز شریف اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں جنوبی ایشیا کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا، ایک ہفتے کے اندر دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ دوسرا ٹیلی فونک رابطہ تھا۔
وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے جنوبی ایشیا کی حالیہ پیشرفت میں ان کی دلچسپی اور روابط کی کوششوں کو سراہا اور کشیدگی میں کمی کے ساتھ ساتھ کسی بھی تصادم سے بچنے کی ضرورت کا خیرمقدم کیا۔
ایک آزاد شفاف، غیر جانبدار اور معتبر تحقیقات کی اپنی پیشکش کا اعادہ کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت نے ابھی تک کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا اور پھر بھی وہ اشتعال انگیز بیان بازی اور جنگ کو ہوا دینے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے عزم کا اعادہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سلامتی کونسل اقوام متحدہ
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔